مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 220 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 220

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم وقال: "قل يتوفاكم ملك الموت الذى وكل بكم فالمتبادر في الآية: إنى مميتك وجاعلك بعد الموت في مكان رفيع عندى، كما قال في إدريس عليه السلام: " ورفعناه مكانا عليا والله تعالى يضيف إليه ما يكون فيه الأبرار من عالم الغيب قبل البعث وبعده كما قال في الشهداء: أحياء عند ربهم، وقال: "إن المتقين في جنات ونهر في مقعد صدق عند مليك مقتدر“۔وأما تطهيره من الذين كفروا فهو انجاؤه مما كانوا يرمونه به أو يرومونه منه ويريدونه به من الشر هذا ما يفهمه القارئ الخالي الذهن من الروايات والأقوال، لأنه هو المتبادر من العبارة وقد أيدناه بالشواهد من الآيات ولكن المفسرين قد حولوا الكلام عن ظاهره لينطبق على ما أعطتهم الروايات من كون عيسى رفع إلى السماء بجسده ـ “ " 202 (تفسیر المنار جلد 3 ص316-317 - دار المنار، الطبعة الثالثة 1368 ه ) آیت کریمہ إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا“ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ مکر کی جب اپنے نبی سے کہا : مُتَوَفِّيك الخ کیونکہ اس میں عیسیٰ علیہ السلام کی کی دشمنوں سے نجات اور دشمنوں کی تدبیر خود ان کے اوپر الٹانے کی بشارت تھی جو کہ پوری ہوئی۔چنانچہ وہ اپنے مکر وہ حیلہ سے آپ کا بال بیکا نہ کر سکے۔توفی کے لغوی معنی کسی چیز کو مکمل طور پر لے لینے کے ہیں، اسی بناء پر یہ موت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا، یعنی الله تعالى جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔نیز فرمایا: ”قُلْ يَتَوَفَّكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ (السجد 120) تو کہہ دے کہ موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہیں وفات دے گا۔چنانچہ اس رُو سے آیت کا واضح طور پر سمجھ آنے والا معنی یہ ہوگا کہ میں تجھے موت دوں گا اور موت کے بعد تجھے اپنے حضور ایک بلند مرتبہ پر فائز کروں گا۔جیسا کہ ادریس علیہ السلام کے