مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 176
160 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہا۔اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مواخذہ کرتا ہے میں نے اس سے کہا کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے۔اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہے کہ گرایا جائے گا۔میں نے کہا کہ میں اپنے خداوند تعالی جلشانہ کے تصرف میں ہوں جہاں مجھ کو بٹھائے گا بیٹھ جاؤں گا اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا کھڑا ہو جاؤں گا۔اور یہ الہام ہوا: يَدْعُونَ لَكَ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعِبَادُ اللهِ مِنَ الْعَرَب - یعنی تیرے لئے ابدال شام کے دعا کرتے ہیں۔اور بندے خدا کے عرب میں سے دعا کرتے ہیں۔خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کب اور کیونکر اس کا ظہور ہو۔واللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب“ (از مکتوب مؤرخہ 6 اپریل 1885ء مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ 86) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام اس وقت ہوا جب ابھی جماعت کا کہیں کوئی نام ونشان بھی نہ تھا اور نہ ہی حضور نے جماعت کے قیام کا کوئی اعلان فرمایا تھا بلکہ یہ اس وقت کی تی بات ہے جب آپ کو بعض بزرگوں کی طرف سے کہا جارہا تھا کہ : تم مسیحا بنوخدا کے لئے“۔اور آپ ہماری بیعت لیں۔لیکن آپ یہی فرما رہے تھے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا۔ایسے وقت میں کسی کو یہ الہام ہو کہ ہندوستان کے چند لوگ تیری بیعت کریں گے اور پھر ایسا ہو جائے تو بھی وہ اس کی صداقت کی دلیل ہے۔لیکن اگر یہ الہام ہو کہ : 1۔تیری بیعت میں عربوں کی ایک جماعت شامل ہونے والی ہے۔2۔وہ جماعت عام لوگوں کی نہیں ہوگی بلکہ ایسے خواص ہوں گے کہ جن میں سے کچھ عباد اللہ، کچھ صلحاء اور کچھ ابدال کے درجہ پر ہوں گے۔3۔یہی نہیں بلکہ جتنے نیک اور صالح اور روحانیت میں ترقی کرنے والے وہ خود ہوں گے اتنا ہی تیرے ساتھ محبت، اخلاص اور وفا میں بڑھنے والے ہوں گے یہاں تک کہ تیرے لئے دعائیں کریں گے۔یہ اتنی بڑی بات ہے کہ کوئی انسان از خود اس کی جرات نہیں کرسکتا۔بلکہ یہ صرف اور صرف وہ خدا ہی کہہ سکتا ہے جس کا دلوں پر تصرف ہے، جو عالم الغیب ہے، جو اپنے فرستادوں کی مدد کی