مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 177
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 161 کرتا ہے اور انکی نصرت کے لئے اپنی وحی کے ذریعہ دنیا کی مختلف اقوام میں سے "رجال" کو منتخب کر کے خود ارسال کر دیتا ہے۔بلا شبہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک عظیم نشان ہے۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ رویا اور الہام آپ کی زندگی میں ہی اس طرح پورا ہوا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت الشیخ محمد بن احمد المکی، حضرت محمد سعید الشامی الطرابلسی صاحب ، حضرت عبد اللہ عرب ، حضرت سید علی ولد شریف مصطفی حضرت عثمان عرب، حضرت حاجی مهدی بغدادی وغیرہ صلحاء العرب اور عباداللہ من العرب اور ابدال شام کی صورت میں آپ کی بیعت میں دے دیا اور یہ خوش قسمت عرب صحابہ اس الہام کے پہلے مصداق بنے۔ایک عجیب توارد جیسا کے اس رویا اور الہام کے درج فرمانے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ: خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کیونکر اس کا ظہور ہو۔“ اس کے مطابق اس کے اور بے شمار معانی ہوں گے اور نہ معلوم آئندہ کس طور پر اور کن معنوں میں اور کتنی دفعہ اس نے پورا ہونا ہے۔تاہم اس کے پورا ہونے کی ایک صورت حضرت خليفة أسبح الرابع رحمہ اللہ کے عہد مبارک میں بھی پیدا ہوئی۔آئیے اب دیکھتے ہیں کہ اس الہام کے پورا ہونے کی یہ تجلی کیسے ظاہر ہوئی۔اس رؤیا کی ابتداء میں حضور فرماتے ہیں: میں نے خواب دیکھا ہے کہ کسی ابتلاء میں پڑا ہوں اور میں نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہا۔اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مؤاخذہ کرتا ہے میں نے اس سے کہا کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے۔اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہے کہ گرایا جائے گا۔میں نے کہا کہ میں اپنے خدا وند تعالیٰ جل شانہ کے تصرف میں ہوں جہاں مجھ کو بٹھائے گا بیٹھ جاؤں گا۔اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا کھڑا ہو جاؤں گا۔“