مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 174
158 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم تو وہ بھی یورپ میں آجائیں، لیکن یہ توفیق بھی بہت کم احمدیوں کو ملتی تھی۔دوسری طرف خلیفہ وقت سے ملاقات کی خواہش ہر احمدی کے دل میں موجزن تھی۔لہذا حضور انور کی ہجرت کے بعد جب آپ سے ملاقات کی یہ راہ کھل گئی تو کہا بیر کے احمدی بھائیوں کی خوشی دیدنی تھی۔دوسری طرف اس لئے بھی ہماری مسرت کا کوئی ٹھکانا نہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی ایک لمبے عرصہ کے انتظار کے بعد مرکزی جلسہ سالانہ میں شرکت کی توفیق دی تھی۔ہمارے لئے اسلام آباد میں رہائش کا اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا اور خدمت کرنے اور خاص خیال رکھنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی گئی۔مختلف ممالک کے وفود اور ہر رنگ ونسل کے افراد سے دینی محبت واخوت کے جذبات کے ساتھ ملاقاتوں میں ایک عجیب حلاوت اور روحانی لذت تھی جس کا بیان ناممکن ہے۔علاوہ ازیں حضور نے ہمیں دعوت پر بلایا بلکہ متعدد بار بڑے پیار سے ہمیں آموں کے تحائف بھی بھیجوائے۔جلسہ کے بعد مجلس شوری میں بھی حضور انور نے ہمیں شمولیت کی اجازت مرحمت فرمائی چنانچہ مبلغ سلسلہ کبابیر کے علاوہ مکرم محمود احمد عودہ صاحب اور مکرم عبد اللہ اسعد عودہ صاحب نے یہ سعادت پائی۔حضور انور کی نصائح حضور نے ایک تو ہمیں ان جلسوں میں تمام احباب کو حسب استطاعت شامل ہونے کی طرف توجہ دلائی۔دوسرے نظام جماعت کے پورے طور پر قیام اور ذیلی تنظیموں کے فعال کردار جیسے امور کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔حضور انور کی اس نصیحت کا یہ اثر ہوا کہ حضور انور کی وفات تک کبابیر کے اکثر احمدیوں کی جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت اور خلیفہ وقت سے ملاقات ہو گئی اور بعض کا مضبوط ذاتی تعلق قائم ہو گیا۔اور ہر ایک کو یا اس کے اہل خاندان کو خلیفہ وقت سے تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی روحانی لذت کے خزانے کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور حاصل ہو گیا۔واپس روانگی سے قبل حضور انور نے ہمیں شرف ملاقات بخشا اور سب کے ساتھ اجتماعی تصویر بھی بنوائی۔