مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 172
مصالح العرب۔جلد دوم 156 1985ء کا تاریخی جلسہ سالانہ برطانیہ ہجرت نے رستے کھول دیئے۔ہم حضرت مصلح موعودؓ کے عہد مبارک میں عربوں میں تبلیغ کے ایمان افروز واقعات کی ذیل میں یہ ذکر کر آئے ہیں کہ جب اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا تو ان علاقوں کے ماعرب باشندے تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پڑوسی عرب ممالک کی طرف ہجرت کر گئے۔بعض اپنی جائیدادیں یہودیوں کو اونے پونے بیچ کر یہ جگہ چھوڑ گئے۔ایسے حالات میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اہل کہا بیر کو یہ پیغام پہنچایا کہ اپنی زمین یہودیوں کو نہیں بیچنی۔لہذا یہ لوگ اسی جگہ پر آباد رہے۔لیکن چونکہ یہ علاقے اسرائیلی تسلط کے نیچے تھے لہذا یہ لوگ پاکستان نہیں جاسکتے تھے، جبکہ خلافت اور جماعت کا مرکز ربوہ پاکستان میں تھا۔اس طرح یہ لوگ خلیفہ وقت نی سے پاکستان میں نہیں مل سکتے تھے۔نہ مرکز احمدیت کی زیارت کر سکتے تھے۔جب حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ بعض اوقات یورپ یا امریکہ وغیرہ کے بعض ممالک کے دورہ پر تشریف لے گئے تو ان احمد یوں میں سے بعض نے حضور سے ملاقات کی اور کئی سالوں کی پیاس بجھائی۔لیکن ایک لمبے عرصہ بعد یہ ملاقات بھی بہت مخصر تھی۔تاہم اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ، فضل اور حکمتوں کے تحت جب حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے لندن ہجرت فرمائی تو جہاں اللہ تعالیٰ نے اور بے شمار نعمتوں اور برکات کی راہیں کھولیں وہاں ان احمدیوں کے لئے خلیفہ وقت سے ملاقات کی راہ بھی کھل گئی۔اور وہ بند جو کئی سالوں سے لگے ہوئے تھے وہ سب ٹوٹ گئے۔شاید ان کے ذہنوں میں کسی قدر محرومی کے خیالات بھی آتے ہوں گے کہ ہم خلیفہ وقت سے مل نہیں سکتے نہ مرکز احمدیت کی زیارت کرنے جا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب محرومیوں کو مثالی