مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 164
148 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم بلکہ مغربی عربی علاقہ ” المغرب العربی“ سے بھی ہے۔یہ تفسیر اس وقت بعض مراکشی احمد یوں کے وجود میں بھی پوری ہوئی۔لیکن حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے عہد مبارک میں یہ تفسیر اس سے بھی روشن رنگ میں صادق آئی اور آرہی ہے۔قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے اس کی ایک مثال پیش ہے۔گذشتہ چند سال سے جاری عیسائیت کی عرب ممالک پر یلغار کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا عرب علاقہ المغرب العربي “ ہی ثابت ہوا اور اس علاقے میں بھی الجزائر اور المغرب (مراکش) سر فہرست ہیں۔ان علاقوں میں اسلامی تنظیموں پر تو تبلیغ کی پابندی ہے لیکن عیسائی تبلیغی مشن پوری آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ان علاقوں میں خصوصا الجزائر میں عیسائیت کی اسلام مخالف سرگرمیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں کی تعداد میں مسلمان اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت کا شکار ہو گئے۔اور یہ لہر روز بروز شدت پکڑتی جارہی تھی۔اس کی خبر جب وہاں کے بعض احمدیوں اور بعض اسلام کی غیرت رکھنے والے مسلمانوں نے حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تک پہنچائی اور بعض نے تو بڑے دردناک الفاظ میں اسلام کی نصرت اور مسلمانوں کو عیسائیت کے چنگل سے بچانے کے لئے حضور انور کی خدمت میں خطوط لکھے۔چنانچہ اس وقت حضور انور کی ہدایات اور خاص توجہ اور دعاؤں سے MTA پر پروگرام ”الحوار المباشر" کا آغاز ہوا۔اس پروگرام میں جب عیسائی عقائد کے ضعف اور بطلان کو ثابت کرنے کا کام شروع ہوا تو عرب علاقوں میں عیسائیت کا سحر دھواں بن کر بکھرنے لگا۔چنانچہ وہ لوگ جو اپنے ضعف ایمانی کی وجہ سے اسلام ترک کر کے عیسائیت قبول کر چکے تھے، واپس اسلام کی طرف لوٹنا شروع ہوئے۔کئی احباب نے لکھا کہ وہ پروگرام الحوار المباشر کی مختلف اقساط ریکارڈ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کرتے ہیں تا کہ انہیں عیسائیت کے توڑ میں دلائل کا علم ہو سکے۔اسی طرح بعض نے یہ پروگرام ریکارڈ کر کے ان لوگوں کو بھی دیئے جو اسلام چھوڑ کر عیسائی ہو گئے تھے۔چنانچہ کئی لوگ واپس اسلام کی طرف لوٹنا شروع ہوئے۔لیکن جب وہ واپس لوٹے تو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی آغوش میں آگئے۔الحمد للہ علی ذلک۔اور یوں واقعہ عرب علاقے کے اس مغرب سے اسلام کا سورج دوبارہ طلوع ہوا اور ہورہا ہے جس کا مفصل بیان حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک عہد میں عربوں میں تبلیغ کے واقعات کے ذیل میں کیا جائے گا۔انشاء اللہ العزیز }