مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 165 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 165

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 149 اس وضاحت کے بعد ہم دوبارہ عربوں میں تبلیغ کے سلسلہ میں ہونے والے اہم اور تاریخی کاموں کا بیان مکرم عبد المؤمن طاہر صاحب کی زبانی سنتے ہیں۔تفسیر کبیر کے ترجمہ کی ابتداء حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے اپنی خلافت کے شروع میں ہی عربوں کی طرف خاص توجہ فرمائی۔جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ان میں سے ایک اہم کام حضرت خلیفہ ثانی کی تفسیر کبیر کے عربی ترجمہ کی ابتداء ہے۔حضور نے اپنی خلافت کے پہلے سال میں ہی جامعہ احمدیہ کے عربی کے استاد مکرم ملک مبارک احمد صاحب ( جو قبل ازیں بلاد عربیہ میں عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آئے تھے ) کو یہ ارشاد فرمایا کہ جامعہ احمدیہ کی اور دیگر تمام مصروفیات چھوڑ کر تفسیر کبیر کا ترجمہ کریں۔اور شاید جلدی کی وجہ سے یا کسی اور سبب سے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جو باتیں اہل ہند سے تعلق رکھتی ہیں یا جو عرب مزاج کے مطابق نہیں ہیں یا جہاں تکرار ہوا ہے اس کو بے شک چھوڑ دیں۔چنانچہ ملک صاحب نے اس طرح پہلی جلد کا ترجمہ مکمل کیا۔جب میں یہاں لندن آیا تو حضور نے مجھے ارشاد فرمایا کہ ملک صاحب نے پہلی جلد کا ترجمہ کیا ہے اور علمی صاحب نے اس کی نظر ثانی کی ہے۔آپ اس بارہ میں اپنی رائے دیں۔خاکسار نے چیک کر کے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور یہ تحریف نہیں ہاں بعض جگہ اختصار کرنے کی وجہ سے یا تکرار کو حذف کرنے سے بعض اہم نکات کا ترجمہ نہیں ہو سکا۔حضور نے فرمایا کہ آپ اس کو پڑھیں اور اصل کے ساتھ ٹیلی کریں۔پھر جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ یہ حذف شدہ پیرا ڈالنا چاہئے تھا اس کا ترجمہ کر کے ڈال دیں پھر میرے ساتھ مل کر اس کو ڈسکس کر لیں۔چنانچہ میں حضور کی خدمت میں ایسے امور لے کر حاضر ہوتا تھا۔حضور انور کئی دفعہ ترجمہ میں بھی تبدیلی کرواتے تھے۔کچھ عرصہ کے بعد مکرم منیر احمد جاوید صاحب بھی مصر سے لندن تشریف لے آئے اور وہ بھی اس کام میں شامل ہو گئے۔جب پہلی جلد کا کام مکمل ہوا تو حضور انور نے فرمایا کہ اس کو تو چھپوائیں، لیکن اب دوسری جلد کے ترجمہ کے بارہ میں مشورہ دیں کہ کس سے کروایا جائے۔مکرم منیر احمد جاوید صاحب نے مشورہ دیا کہ مکرم