مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 163
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 147 مسلمانوں کی طرف سے اسلامی تعلیمات سے انحراف کی شکل میں گرہن لگ جائے گا وہاں دجالی قوتوں کے دجل اور فریب کے بادل شمس اسلام کی شعاؤں کو اہل زمین پر پہنچنے سے روک دیں گے۔لیکن آخری زمانے میں مسیح محمدی کے انفاس طاہرہ اور انفاخ قدسیہ کے ذریعہ ایک طرف اہل اسلام میں ایک نئی روح پھونکی جائے گی۔تو دوسری طرف عیسائیت کے دجل کو بھی پارا پارا کیا جائے گا۔اور چونکہ اس دجل کی آماجگاہ مغرب یعنی یورپی ممالک بنے اس لئے یہیں سے اسلام کا سورج دوبارہ طلوع ہونے کی پیشگوئی موجود ہے۔چنانچہ ان علاقوں میں بھی یہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی ہے۔اور اب خلافت احمدیہ اور ایم ٹی اے کے ذریعہ انہی علاقوں سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بارہ میں کیا خوب فرمایا تھا کہ: اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا۔اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 304) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے ایک اور نہایت لطیف معانی ”خطبہ الہامیہ" میں بیان فرمائے ہیں جو دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی خاصہ ہیں اور شاید اس سے قبل کسی نے بیان نہیں کئے۔حضور فرماتے ہیں کہ اسلام کا سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا حتی کہ مسلسل زوال کی وجہ سے وہ مغرب یعنی اپنے غروب ہونے کے مقام کے قریب چلا گیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ اس سورج کو وہاں سے دوبارہ طلوع فرما دیا اور غروب ہونے سے بچالیا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی مذکورہ بالا تفسیر اور پیشگوئی کس طرح صادق آتی ہے آپ نے فرمایا کہ عالم عرب کے مغربی علاقہ میں بڑی کثرت سے احمدیت کا نفوذ ہوگا اور گویا اسلام کا سورج اس علاقہ سے طلوع ہوگا۔سو واضح ہو کہ جس ملک کو ہم اردو میں مراکش کہتے ہیں عربی زبان میں اس کا نام المغرب“ ہے۔اور مراکش اس کے دارالحکومت کا نام ہے۔اسی طرح عربوں کے مغربی علاقے کا نام ”المغرب العربی“ ہے جس میں مراکش، تیونس، الجزائر، لیبیا، اور موریطانیہ شامل ہیں۔یوں حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی تفسیر کا تعلق نہ صرف ”المغرب“ یعنی مراکش سے ہے