مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 161
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 145 کا مجھے پتہ ہے آپ اس کو چھوڑو اور اپنی تحقیق جاری رکھو۔بہر حال میں نے پوری کوشش کی لیکن تحقیق کسی نتیجہ پر نہ پہنچی۔جب میں لندن آیا تو یہ ساری تحقیق بھی اپنے ساتھ لے آیا۔رمضان المبارک میں حضور انور نے درس شروع کیا تو اس درس کے دوران جب آیت قرآنی فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ (یونس : 93) کا ذکر ہوا تو حضور نے فرمایا کہ مومن سے پوچھیں اس کی تحقیق کا کیا بنا وہ مصر میں فرعون کے غرق ہونے کے بارہ میں تحقیق کرتا رہا ہے۔میں نے اس وقت کے پرائیویٹ سیکرٹری نصیر احمد قمر صاحب سے عرض کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحقیق بہت مشکل تھی لیکن یہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچی۔مجھے فرعون کے غرق ہونے کا کوئی حوالہ نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ جو بھی تحقیق ہے وہ حضور انور کی خدمت میں پیش کر دیں۔جب حضور انور کی خدمت میں یہ عرض کیا گیا کہ فرعون کے ڈوب مرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تو حضور نے فرمایا یہی تو میں ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مرا نہیں بلکہ زندہ نکالا گیا اور بعد میں اس نے حکومت کی۔لیکن وہ اس کی وقت ایک زندہ لاش سے زیادہ اور کچھ نہ تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے قہر کا نشانہ بنایا کہ وہ باوجود اس کے کہ دوبارہ تخت حکومت پر جا بیٹھا لیکن محض ایک زندہ لاش کی طرح تھا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے عبرت کا نشان بنا ڈالا۔کتاب "مقتل مرتد کی سزا کی حقیقت کے عربی ترجمہ کی اشاعت حضور رحمہ اللہ کے خطاب کا عربی ترجمہ "حقيقة عقوبة الردّة في الاسلام چھپا تو اس کے بعد حضور انور نے اپنے یورپ کے دورہ میں خاکسار کو بھی از راہ شفقت شامل وفد فرمایا۔اس دورہ کے دوران حضور نے مجھے فرمایا کہ مختلف عرب ملکوں اور لائبریریوں اور بڑی بڑی شخصیات کے ایڈریس اکٹھے کر کے یہ کتاب سب کو بھجواؤ کیونکہ یہ بہت ہی خطر ناک عقیدہ۔اس کا سد باب ہونا چاہئے۔عالمگیر غلبہ اسلام کی مہم میں عالم عرب کی اہمیت اس دورہ کے دوران حضور انور نے خدام الاحمدیہ جرمنی کے اجتماع کے موقعہ پر عربوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یاد رکھیں کہ جب تک عرب ایک بہت بڑی تعداد میں احمدی نہیں ہوتے