مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 162 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 162

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 146 اس وقت تک عالم اسلام احمدیت کی آغوش میں نہیں آئے گا۔کیونکہ عالم اسلام دین میں عالمی عرب کو فالو (Follow) کرتا ہے۔اس لئے کوشش کریں کہ عالم عرب سے ایک اچھی تعداد میں لوگ احمدی ہو جائیں پھر عالم اسلام بھی کثرت سے جماعت میں داخل ہو جائے گا۔آج کل بفضلہ تعالیٰ عالم عرب کی توجہ احمدیت کی طرف ہو رہی ہے اور عرب بھی بکثرت احمدیت کی آغوش میں آتے چلے جارہے ہیں۔اللہ کرے کہ وہ دن جلد آئے جب تمام عالم اسلام بھی کثرت کے ساتھ احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شامل ہو جائے۔آمین۔مغرب سے طلوع شمس دورہ جرمنی کے دوران حضور انور نے بعض مراکشی احمد یوں کو بھی شرف ملاقات بخشا۔جس میں یہ بھی فرمایا کہ حدیثوں میں جو یہ آیا ہے کہ آخری زمانہ میں مغرب سے طلوع شمس ہوگا۔اس کے اور بھی کئی معانی ہیں لیکن ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عالم عرب کے مغربی علاقہ میں بڑی کثرت سے احمدیت کا نفوذ ہوگا اور گویا اسلام کا سورج اس علاقہ سے طلوع ہوگا۔عین ممکن ہے کہ اس بارہ میں بعض لوگ اعتراض کریں کہ یہ علاقہ تو پہلے ہی مسلمانوں پر مشتمل تھا پھر وہاں سے اسلام کے سورج کے طلوع ہونے کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔اس لئے بطور وضاحت خاکسار ( محمد طاہر ندیم ) عرض کرتا ہے کہ احادیث نبویہ میں مذکورہ آخری زمانہ کی پیشگوئیوں میں ایک یہ طلوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ہے یعنی اس زمانہ میں مغرب سے سورج طلوع ہوگا۔غیر از جماعت حضرات ایسی تمام پیشگوئیوں کو ظاہر پر محمول کر کے ان کے پورا ہونے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔چنانچہ وہ دجال نامی ایک شخص کے ظاہر ہونے کے قائل ہیں جو عجیب الخلقت گدھے پر سوار ہوگا۔نیز وہ دَابَّةُ الأرْض یعنی زمین سے ایک ظاہری کیڑے کے نکلنے کے قائل ہیں۔اسی طرح وہ اس پیشگوئی کے بھی ظاہری رنگ میں ظہور کی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کسی دن سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو جائے گا۔لیکن یہ سب نہایت بلیغ استعارے ہیں جن کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے عظام نے بڑی شرح وبسط کے ساتھ اپنی کتب اور خطابات میں فرمائی ہے۔مغرب سے طلوع شمس کے کئی معانی ہو سکتے ہیں۔ایک معنی یہ کہ اسلام کے سورج کو جہاں