مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 147
مصالح العرب۔جلد دوم عربی لہجہ اپنانے کی ہدایت 131 مصر میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع کا مجھے یہ ارشاد موصول ہوا کہ ہماری جماعت میں عربی دان تو بہت ہیں لیکن عربوں کے سٹائل میں اور ان کے لہجے کے ساتھ بات کرنے والا کوئی نہیں ہے۔اس لئے عربوں میں بیٹھیں ان سے گفتگو کریں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح بات کرتے ہیں پھر ان کے سٹائل اور لہجہ کو اپنا ئیں۔چنانچہ میں نے اس کے بعد مسلسل چھ ماہ صرف تلفظ درست کرنے پر لگائے۔شروع میں میرے تلفظ کے خراب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے اساتذہ کا بھی تلفظ ایسا ہی تھا یا اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں تھی۔صرف مکرم نورالحق صاحب تنویر کا تلفظ عربوں کی طرح ہوتا تھا لیکن اپنی جہالت کی وجہ سے ہم اسے تکلف کا نام دیتے تھے۔اب اس ضمن میں مجھے ایک اور واقعہ بھی یاد آ گیا غالبا یہ 1980ء یا 1981 ء کی بات ہے کہ جامعہ احمدیہ کے ہال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتاب ”سیرۃ الا بدال" کی شرح پر مشتمل لیکچر ہوتا تھا جس میں جماعت کے بڑے بڑے علماء بھی شریک ہوتے تھے۔مجھے یاد ہے اس میں ایک دفعہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے بھی کھڑے ہو کر جماعت کے ایک عالم سے پوچھا کہ عربی زبان میں ض“ کا تلفظ کیا ہے؟ اس سوال کے جواب سے حضور کو اطمینان نہ ہوا۔جب حضور انور کی طرف سے مجھے عربی تلفظ سیکھنے کا ارشاد موصول ہوا تو مجھے یہ واقعہ بھی یاد آگیا۔چنانچہ میں نے وہاں سے ایک کتاب بھی خریدی جس کا نام ”الإمْلَاء وَالتَّقْدِيم“ تھا۔اس کتاب میں ہر حرف کی آواز کے بارہ میں تصویری رنگ میں راہنمائی کی ہوئی تھی کہ کہاں اس حرف کا مخرج ہے۔اور جب میں یہاں لندن آیا تو جامعہ میں پیش آنے والے اس واقعہ کا ذکر کر کے یہ کتاب حضور انور کی خدمت میں پیش کی۔حضور نے فرمایا مجھے ملیں۔ملاقات میں حضور نے فرمایا کہ مجھے باقی حروف کے تلفظ کا تو پتہ ہے لیکن یہ بتائیں کہ ض کا تلفظ کس طرح ادا ہوتا ہے ؟ چنانچہ اس بارہ میں جو بھی مجھے علم تھا اس کی بنا پر حضور انور کی خدمت میں وضاحت پیش کی۔اس واقعہ سے حضور رحمہ اللہ کی طلب علم کی پیاس کا علم ہوتا ہے اور اس میں ہم سب کے لئے ایک نمونہ ہے۔