مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 148
مصالح العرب۔جلد دوم ایک مخلصانہ نصیحت 132 میرے قیام مصر کے دوران مکرم نصیر احمد قمر صاحب نے جو ان دنوں حضور کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے مجھے لکھا کہ جو بھی ترجمہ کر و حضور انور کی خدمت میں بھجوایا کرو تا حضور انور کو بھی علم ہوتا رہے کہ آپ کس سٹیج پر پہنچے ہیں اور اگر حضور انور اس سلسلہ میں ہدایات سے نواز میں تو انہی خطوط پر چل کر حضور کی دعائیں اور برکتیں بھی حاصل ہوتی رہیں۔نیز نصیحت کی کہ ٹائپ کرنا سیکھو اور اپنے تراجم اچھی طرح ٹائپ کر کے ارسال کیا کرو۔چنانچہ اس نصیحت پر عمل کرتے وئے میں نے ٹائپنگ سیکھی جس کا بعد میں بہت فائدہ ہوا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی نصیحت جماعت احمدیہ مصر کے ایک بڑے مخلص ممبر تھے اور سب سے زیادہ مدد اور تعاون بھی کرنے والے تھے۔یہ دوست مختلف امور میں بکثرت اپنی رائے اور مشورہ دیتے تھے لیکن ایک بات تھی کہ اپنی رائے یا مشورہ کو منوانے کیلئے اکثر بہت زیادہ اصرار کیا کرتے تھے اور اس وقت تک دہراتے رہتے تھے جب تک ان کی بات مان نہ لی جائے۔اس موضوع پر ایک دن میں نے خطبہ جمعہ میں بات کی اور کہا کہ مشورہ دینے والے کی ذمہ داری مشورہ دینے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔مرکزی نمائندہ ان تمام مشوروں اور آراء کی روشنی میں جو بہتر خیال کرے وہ فیصلہ کر سکتا ہے۔کوئی اسے اپنی رائے ہی پر عمل کرنے پر مجبور نہ کرے۔شاید میں نے اس خطبہ میں کافی سختی سے کام لیا۔رات کو خواب میں حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کو دیکھا۔انہوں نے مجھے نصیحت فرمائی کہ عربوں سے نرمی اور محبت کے ساتھ تعامل کیا کریں کیونکہ سختی سے یہ لوگ بدک جاتے ہیں۔یہ میرے مصر کے ابتدائی ایام کی بات تھی اور الحمد للہ کہ شروع میں ہی اس قسم کی نصیحت مل جانے سے بعد میں مجھے بہت فائدہ ہوا۔محترم حلمی الشافعی صاحب کا انکسار م حلمی الشافعی صاحب میرے وہاں جانے کے ایک سال بعد مصر واپس آئے۔قبل