مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 146 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 146

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 130 صاحب کا بہت بڑا دخل تھا۔آپ نے مسلسل مرکز سے رابطہ رکھا اور جماعت کی طرف سے کوئی خط یا رسالہ یا مضمون یار یو یو آف ریلیجنز کا کوئی شمارہ بھی ان کے ہاتھ لگتا تو فورا ترجمہ کر کے ساری جماعت میں پھیلا دیتے تھے۔خاکسار ( محمد طاہر ندیم ) عرض کرتا ہے کہ ان پرانے احمدیوں نے اپنے ملکوں میں مذہبی آزادی کے زمانے میں اس قدر فدائیت اور اخلاص کے ساتھ دن رات کام کئے ہیں کہ ایسے لگتا ہے کہ احمدیت کی تبلیغ کی لگن اور مصروفیت نے یا تو انہیں اپنی شادی کے بارہ میں سوچنے ہی نہیں دیا یا عین ممکن ہے خود ہی اس وجہ سے شادی نہ کی کہ شادی تو بعد میں بھی ہو سکتی ہے جبکہ ابھی کام کرنے کی عمر ہے اور یہ کام کرنے کا وقت ہے اس لئے اگر ابھی شادی کی تو کہیں بیوی اور بچے ان کے اس کام اور خدمت میں حائل نہ ہو جائیں۔اس کی ایک مثال بسیونی صاحب مصر میں تھے اور دوسری مثال مکرم منیر احصنی صاحب شام میں تھے۔مکرم منیر الحصنی صاحب نے ساری جوانی احمدیت کی تبلیغ اور احمدیوں کی تربیت میں گزار دی۔مرکز جماعت ہی ان کا گھر تھا، یا شاید یہ کہنا مناسب ہو کہ ان کا گھر ہی مرکز جماعت تھا اور افراد جماعت احمد یہ ان کا خاندان۔احمدی احباب کی تربیت اور احمدیت کی تبلیغ ان کے روزانہ کے لازمی کام ہوتے تھے۔بعد میں انہوں نے بڑھاپے میں شادی کی۔لیکن ان کی کوئی حقیقی اولا د تو نہ پیدا ہوئی تاہم لا تعداد اپنی روحانی اولا د چھوڑ کے گئے جو آج تک ان کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں، آوازیں بھرا جاتی ہیں۔لیکن جب ان کے ملکوں میں پابندیاں لگیں اور خفیہ پولیس کے کارندوں نے احمدیوں کو بلا بلا کر دھمکایا اور مراکز احمدیت پر پہرے بٹھا دیئے گئے اور احمدیوں کو وہاں جانے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا گیا اور بصورت دیگر کبھی جیل جانے کی دھمکی دی تو کبھی قتل کی ، تب یہ لوگ اپنے گھر کے ہو کر رہ گئے۔اور اس وجہ سے بچوں میں بھی احمدیت کو راسخ نہیں کر پائے جس کی وجہ سے اکثر کی اولا دیں ان کے ساتھ احمدیت پر قائم نہ رہیں۔پھر جب ایک لمبے عرصہ کے بعد جماعت کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے لگیں تو یہ پرانے احمدی ابھی تک پرانے خوف سے نہیں نکل پائے تھے شاید یہ وجہ تھی کہ ان میں سے بعض پیچھے پیچھے رہتے تھے۔ورنہ تھی ناصف صاحب تو مجلہ البشری میں مضامین لکھا کرتے تھے اور بڑے مخلص احمدی تھے۔