مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 123 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 123

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 107 باقی رہیں اور زندہ رہیں اور دنیا میں ہمیشہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہوئے جاری ساری رہیں۔آپ فرماتے ہیں إِنَّ بَقَاءَ هُمُ نُورٌ فِي الْإِسلَامِ اگر یہ قوم باقی رہے گی تو اسلام کا نور باقی رہے گا وَإِنَّ فَنَاءَهُمْ ظُلُمَةٌ فِی الْاِسلام اور ان کے فنا ہونے سے اسلام میں تاریکی آجائے گی۔پھر فرمایا: حُبُّ الْعَرَبِ إِيْمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاق“۔(کنز العمال جلد 12 صفحہ 44) عربوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے، ایمان کی علامت ہے اور نفاق ہے یہ بات کہ عربوں سے بغض کیا جائے۔جس کے دل میں منافقت کی رگ ہو صرف وہی عربوں سے دشمنی یا بغض رکھ سکتا ہے۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہنچے گی۔"مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدُ حُلُ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلُهُ مَوَدَّ تِی“۔( ترمذی ابواب المناقب باب مناقب في فضل العرب صفحہ (63) جس نے عربوں کو دھوکا دیا وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہوگا اور اس کو میری محبت نہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنے آقا کی پیروی میں عربوں سے غیر معمولی محبت کی اور محبت کی تعلیم دی اور ان کے لئے بے انتہا دعائیں کیں۔چنانچہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض تحریرات آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کے دل میں بھی وہی جذبہ جوش مارے، اسی طرح دل گرمائے جائیں عربوں کی محبت میں اور اسی طرح عاجزی اور انکسار اور بے حد خلوص اور جذبہ کے ساتھ آپ اپنے عرب بھائیوں کو دعاؤں میں یاد پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ عربوں میں بعض لوگ بہت ہی نیک دل اور پاک فطرت اور صلحاء ایسے ہیں جنہوں نے مجھے قبول کیا ہے مخالف حالات کے باوجود اور صدق وصفا میں وہ بہت بڑھ گئے ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا: صَرَفَ إِلَيَّ نَفَرًا مِّنَ الْعَرَبِ الْعُربَاءِ فَبَايَعُو نِي بِالصِّدْقِ وَالصَّفَاءِ