مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 124
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم وَرَأَيْتُ فِيهِمْ نُورَ الْاِخْلَاصِ وَسِمَتِ الصِّدْقِ وَحَقِيقَةٌ جَامِعَةً لا نُوَاعِ السَّعَادَةِ وَكَانُوا مُتَّصِفِينَ بِحُسُنِ الْمَعْرِفَةِ بَلْ بَعْضُهُمُ كَانُوا فَائِضِينَ فِى الْعِلْمِ وَالأدَب وَفِى الْقَوْمِ مِنَ الْمَشْهُورِينَ۔۔۔۔وَإِنِّي معَكُمُ يَا نُجَبَاءَ الْعَرَبِ بِالْقَلْبِ وَالرُّوحِ، وَأَنَّ رَبِّي قَدُ بَشِّرِ نِي فِي العَرَبِ وَ الْهَمَنِى اَن اُ مَةٍ نَهُمْ وَ أُرِيهِمْ طَرِ يُقَهُمْ وَأَصْلِحَ لَهُمْ شُونَهُمْ وَسَتَجِدُونَنِى فِى هَذَا الْأَمْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهِ مِنَ الْفَائِزِين- أَيُّهَا الا عِزَّةُ! إِنَّ الرَّبَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ تَجَلَّى عَلَيَّ لِتَأْتِيدِ الْإِسْلَامِ وَتَحْدِيدِهِ بِأَحَصِ التَّحَلِيَاتِ وَمَنَحَ عَلَى وَابِلَ الْبَرَكَاتِ وَا نُعَمَ عَلَى بِاَنْوَاعِ الَّا نُعَامَاتِ، وَبَشِّرَنِي فِي وَقْتٍ عَبُوسِ لِلْإِسْلَامِ وَعَيْشٍ بُوسِ لِأُمَّة خَيْرِ الْأَنَامِ بِالتَّفَضُّلَاتِ وَالْفُتُوُ حَاتِ وَالتَّابِيُدَاتِ فَصَبَوتُ إِلَى إِشْرَاكِكُمُ يامَعْشَرَ الْعَرَبِ فِي هَذَا النِّعَمِ وَكُنتُ لِهَذَا الْيَوْمِ مِنَ الْمُتَشوِفِينَ فَهَلْ تَرْغَبُونَ أَن تَلْحَقُوا بِى لِلَّهِ رَبِّ 108 الْعَالَمِينِ؟“ (حمامة البشرى روحانی خزائن جلد 7 صفحه 181-183) فرماتے ہیں خالص عربوں میں سے کچھ لوگ میری طرف مائل ہوئے اور انہوں نے سچائی اور صدق وصفا سے میری بیعت کی۔میں نے ان میں اخلاص کا نور اور صدق کی علامت دیکھی اور ایسی حقیقت دیکھی جو مختلف قسم کی سعادتوں کی جامع ہے اور وہ عمدہ معرفت سے متصف ہیں بلکہ بعض علم و ادب میں فیض یافتہ ہیں اور قوم کے مشہور لوگ ہیں۔اے نجباء عرب ! میں قلب اور روح کے ساتھ تمہارے ساتھ ہوں۔اور میرے رب نے مجھے عربوں کے بارہ میں بشارت دی ہے اور مجھے الہام کیا ہے کہ میں ان کی روحانی خوراک کا سامان کروں اور انہیں ان کا صحیح راستہ بتاؤں اور ان کے حالات ٹھیک کروں اور انشاء اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں تم مجھے کامیاب ہوتا پاؤ گے۔اے میرے عزیزو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھ پر تائید اسلام اور اس کی تجدید کے لئے تجلی فرمائی اور یہ خاص قسم کی تجلی تھی اور مجھے برکات کی بارش عطا کی اور مختلف قسم کے انعامات سے مجھے نوازا اور سخت پریشانی کے وقت میں مجھے اسلام کے لئے بشارت دی گئی جبکہ خیر الا نام کی امت سخت تنگ حالات میں زندگی بسر کر رہی تھی۔یہ بشارات مختلف قسم کے فضلوں اور فتوحات کی