مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 122
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم وَاسْمَعِيلَ وَ إِنَّ لِوَاءَ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَا مَهَ بِيَدِى وَ إِنَّ اقْرَبَ الْخَلْقِ مِنْ لِوَ إِنِى يَوْمَئِذٍ الْعَرَبُ (کنز العمال جلد 6 صفحه 204) 106 کہ میں نے عربوں کے لئے دعا کی اور عرض کیا اے میرے اللہ ! جوان (عربوں ) میں سے تیرے حضور حاضر ہو اس حال میں کہ وہ مومن ہے تیری لقا کو مانتا ہے تو تو تمام عمر اس سے بخشش کا سلوک فرما۔اور یہی دعا حضرت ابراہیم نے کی ،اسماعیل نے کی اور حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہو گا اور تمام مخلوقات میں سے میرے جھنڈے کے قریب ترین اس روز عرب ہوں گے۔پھر فرمایا: الْعَرَب نُورُ اللهِ فِى الْأَرْضِ وَفَنَاؤُهُم ظُلُمَة، فَإِذَا فَنِيَتِ الْعَرَبُ أَظْلَمَتِ الْأَرْضُ وَذَهَبَ النُّورُ۔(کنز العمال جلد 6 صفحه 204) عرب اللہ تعالیٰ کا نور ہیں اس زمین میں اور ان کی ہلاکت تاریکی کا باعث ہوگی۔جب عرب ہلاک ہوں گے تو زمین تاریک ہو جائے گی اور نور جاتا رہے گا تو معنوی لحاظ سے بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ عربوں کو ہلاکتوں سے بچائے اور ظاہری اور جسمانی لحاظ سے بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ عربوں کو ہلاکت سے بچائے۔پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی: أحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ لِاَنِّى عَرَبِيٌّ وَالْقُرَانُ عَرَبِيٌّ وَكَلَامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ 66 28 عَرَبِي (کنز العمال جلد 6 صفحه 204) عربوں سے تین وجوہ سے محبت کر و اول یہ کہ میں عربی ہوں دوئم یہ کہ قرآن کریم عربی میں نازل ہوا سوئم یہ کہ اہل جنت کی زبان بھی عربی ہوگی۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: احِبُوا الْعَرَبَ وَبَقَاءَ هُمُ فَإِنَّ بَقَاءَ هُمُ نُورٌ فِي الْإِسْلَامِ وَإِنَّ فَنَاءَهُم ظُلُمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ“۔(کنز العمال جلد 6صفحه 204) کہ عربوں سے بہت محبت کرو اور ان کی بقا سے محبت کرو یعنی کوشش کرو کہ وہ ہر حال میں