مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 121 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 121

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 105 اپنے بچے کھچے ہتھیاروں کے بدلے لوٹ لیا جائے ، ان کی دوستیں سمیٹ لی جائیں اور ان کو ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ کیا جائے۔تو انتہائی تکلیف دہ اور دکھ کا حال ہے جو ناقابل برداشت ہونا چاہئے ایک مسلمان کے لئے۔جماعت احمدیہ کو میں آج خاص طور پر تاکید کرتا ہوں کہ بے حد درد اور کرب کے ساتھ ، با قاعدگی سے عربوں کے لئے دعائیں کریں یعنی ایک دفعہ کی یادو دفعہ کی دعا کا سوال نہیں بلکہ اس کو التزام کے ساتھ پکڑ لیں۔ہر تہجد میں، ہر نماز میں، جہاں تک توفیق ملے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس قوم پر فضل فرمائے اور رحم فرمائے اور مصیبتوں اور دکھوں سے نجات بخشے اور ہدایت دے اور اگر ان کے کسی فعل سے خدا ناراض ہے تو ان سے مغفرت کرے، عفو کا سلوک فرمائے اور وہ نور جو پہلے ان سے پھوٹا تھا وہ دوبارہ ان میں بڑی شدت کے ساتھ اور قوت کے ساتھ داخل ہو۔نور مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا میں پھیلانے کا موجب بنیں اور صف اول کی قربانیاں جس طرح پہلے انہوں نے دی تھیں دین اسلام کے لئے آئندہ بھی ان کو دین اسلام کی صفِ اوّل میں ہی اللہ تعالیٰ رکھے، پیچھے رہ جانے والوں میں شامل نہ کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عربوں میں سے ہونا ایک اتنا بڑا احسان ہے ساری دنیا پر عربوں کا ، اگر چہ بالا را دہ تو اتنا نہیں لیکن عرب قوم کا احسان ہے کہ اس میں سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوئے اور پھر اتنی حیرت انگیز قربانی کی ہے اسلام کے لئے اس قوم نے کہ کوئی نظیر جس کی دنیا میں نظر نہیں آتی۔تو پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عربوں میں سے اگر چہ بالا رادہ عرب کا احسان نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ضرور کوئی نیکی اور غیر معمولی خوبی دیکھی تھی جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو عربوں میں مبعوث فرمایا اور بعد میں ان کے عمل نے ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب بہترین انتخاب تھا۔پس یہ براہ راست ہمارے محسن بنے ، بالا راده محسن بنے جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی تائید کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے لیکن پیچھے نہیں ہٹے اور تمام دنیا کو دیکھتے دیکھتے چند سالوں میں نور اسلام سے منور کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: إِنِّي دَعَوْتُ لِلْعَرَبِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ مَنْ لَقِيَكَ مِنْهُمْ مُؤْمِنًا مُو قِناً بِكَ مصدِقاً بِلقَائِكَ فَاغْفِرُ لَهُ أَيَّامَ حَيَاتِهِ وَهِيَ دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ