مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 110 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 110

مصالح العرب۔جلد دوم 94 بعض عرب ممالک کے مستقبل کے بارہ میں رویا حضور کا عربوں کے معاملات میں دلچسپی اور ان کے خاص خیال کا آپ کے اس رویا سے 66 بھی پتہ چلتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: جن دنوں میں ایران کا انقلاب آرہا تھا ، 1977ء کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ کا نظارہ کر رہا ہوں ایک وسیع گول دائرہ میں نوجوان کھڑے ہیں اور وہ باری باری عربی میں بہت ترنم کے ساتھ پڑھتے ہے اور وہ فقرہ جو اس وقت لگتا ہے جیسے قرآن کریم کی آیت : ” کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے۔“ اور یہ جو مضمون ہے یہ اس طرح مجھ پر کھلتا ہے کہ نظارے دکھائے جارہے ہیں ایک پہلو سے سامنے یہ نو جوان گا رہے ہیں اور پھر میری نظر پڑتی ہے اس کی طرف ، شام مجھے یاد ہے، عراق یاد ہے، اور پھر ایران کی طرف ، پھر افغانستان، پاکستان مختلف ملک باری باری سامنے آتے ہیں۔جو انقلاب آرہے ہیں ان کا آخری مقصد سوائے خدا کے کسی کو پتہ نہیں۔ہم ان کو اتفاقی تاریخی واقعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اتفاقا رونما ہونے والے واقعات ہیں۔مگر رؤیا میں جب وہ مل کر گاتے ہیں تو اس سے یہ تاثر زیادہ قوی ہوتا چلا جاتا ہے کہ اتفاقاً الگ الگ ہونے والے واقعات نہیں بلکہ واقعات کی اک زنجیر ہے جو تقدیر بنا رہی ہے۔اور ہم دیکھ رہے ہیں مگر ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جس کا ہاتھ یہ تقدیر بنا رہا ہے۔معلوم ہوتا ہے کوئی بڑے بڑے واقعات ان واقعات کے پس پردہ رونما ہونے والے ہیں جو ان کے پیچھے پیچھے آئیں گے۔ہم جو سیاسی اندازے کر رہے ہیں یہ کچھ اور کی