مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 73
61 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم بار اس بات کا اظہار و اعتراف کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔نیز انہوں نے جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کی بیحد تعریف کی اور کہا کہ اس جماعت نے اس زمانہ میں اسلام کی لاج رکھ لی ہے۔انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ وفات مسیح کے متعلق با قاعدہ مدلل تحریر لکھ کر مجھے دیں گے۔اس کے علاوہ لبنان کے چوٹی کے مسیحی فلاسفر وادیب میخائیل نعیمہ کو بھی اسلام و احمدیت کا نت پیغام پہنچایا گیا اور مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کی بشارت دی۔وہ دلائل سن کر بہت متاثر ہوئے۔ان کو ام الالسنہ کے دعویٰ کو بیان کیا جس کو سن کر وہ سخت متعجب و حیران ہوئے اور اس بارہ میں خاص غور وفکر کرنے کا وعدہ کیا۔(ان کو بھی حکومت کی طرف سے ہزاروں لیرات کا انعام واکرام مل چکا ہے ) مفتی اعظم فلسطین محمد امین الحسینی جو کہ مدت سے بیروت میں مقیم ہیں سے بھی متعدد بار گفتگو کا موقع ملا۔ایک بار جبکہ وہ اپنے سیکرٹری احمد الخطیب اور بعض دیگر ملاقاتیوں کے ہمراہ خاکسار کے ساتھ تبادلہ خیالات کر رہے تھے تو انہوں نے بھی وفات مسیح کا اقرار کیا اور از خود آیتہ كريم فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کو پیش کر کے اس سے مسیح علیہ السلام کی موت پر استدلال کیا۔نیز وہ ہمیشہ جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کو سراہتے ہیں۔ان سے خاکسار کے اچھے دوستانہ تعلقات تھے جس کی بنا پر انہوں نے ہمارے احمدی فلسطینی دوستوں کو سینکڑوں لیرات کی اعانت و مدد فرمائی۔اور اب بھی میری درخواست پر کرتے رہتے ہیں۔امید افزا حالات اس عرصہ میں ہزاروں لوگوں تک مسلسل طور پر اسلام واحمدیت کے پیغام کو پہنچایا گیا۔اور مسیحی احباب کو قرآن کریم کے نسخہ جات و دیگر اسلامی لٹریچر پہنچایا گیا۔اور متعدد پادری صاحبان سے بھی بحث و تمحیص ہوتی رہی اور بالآخر وہ لوگ لاجواب ہی ہوتے رہے۔اور حاضرین ان پر ہنتے رہے۔یہ عرصہ جماعت احمدیہ کی جماعتی تربیت و تعلیم و تنظیم کا خاص عرصہ تھا۔اس عرصہ میں خاکسار نے جماعت کو ان پہلوؤں کے لحاظ سے نیز چندوں میں حصہ لینے کے لحاظ سے خاص