مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 72
60 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ایک زیر تبلیغ دوست الشیخ جمیل الحلاق کو بھی خاکسار نے استخارہ کرنے کو کہا جس پر کی اللہ تعالیٰ نے ان پر نہایت ہی صاف الفاظ میں ان کی حالت کے مطابق حق کو ظاہر کر دیا اور اس کی کے قبول کرنے کا طریق بھی سمجھا دیا۔اس کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ حج کر رہے ہیں اور جب وہ حجر اسود کے طواف کرنے اور اس کو بوسہ دینے کے لئے جانا چاہتے ہیں تو ان کو ایک سپاہی روک کر کہتا ہے کہ انتَ مَمْنُوعٌ أَنْ تَحْجِ إِلَّا بِإِذْنِ الْمَلِكَ “۔خاکسار نے ان کو تعبیر بتائی کہ آپ امام مہدی علیہ السلام پر ایمان لانا اور ان کی بیعت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ امام زماں ہی دراصل وہ مبارک وجود ہوتا ہے جس کا لوگ طواف کرتے اور اس کو بوسہ دیتے ہیں۔مگر آپ کو یہ سعادت صرف خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی نصیب ہو سکتی ہے۔اور آپ کے لئے سخت ڈرنے کا مقام ہے کہ اگر آپ نے ستی کی تو بد نصیب رہنے کا مقام ہے۔مگر رستہ موجود ہے۔لیکن اجازت کی ضرورت ہے۔اس لئے آپ کو بادشاہ ارض و سما جو کہ حقیقی بادشاہ ہے اس کے حضور دعاؤں پر بڑا زور دینا چاہئے تا کہ جرات پیدا ہو اور اس کا فضل واجازت نازل ہو۔الغرض اس خواب میں اللہ تعالیٰ نے سائل کو صحیح اور مکمل جواب عطا فرما دیا اور اس پر حجت تمام کر دی۔وہ دوست زیر تبلیغ تھے۔دعا ہے مولا کریم انکو حق کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے ہمیں شریر لوگوں کے شر سے محفوظ رکھا اور جب کبھی کسی نے شرارت کرنی چاہی تو اس کا کچھ نہ بنا۔چنانچہ ایک موقع پر ایک مشہور شیخ محمد المناصفی نے وہاں کی مسجد میں چند لوگوں کو میرے خلاف کرنا چاہا تو اس موقع پر خاکسار نے ان لوگوں کے سامنے احمدیت کے عقائد کی تشریح کی جو ان لوگوں کو سمجھ میں آگئی اور نیز خاکسار نے ان شیخ صاحب کے جھوٹے الزاموں کی بھی تردید کر کے دکھائی جس پر وہ لوگ خود اس شیخ کے خیالات کی تردید کرنے لگے اور اس پر ہنسنے لگے۔بعض سرکردہ شخصیات پر اتمام حجت اس کے علاوہ لبنان کے چوٹی کے ایک عالم و ادیب الشیخ عبد اللہ الصلایلی کے ساتھ کئی مرتبہ تبادلۂ خیالات ہوا۔اس عالم کو حکومت کی طرف سے ہزار ہا لیرات کا انعام واکرام اس کی ادبی و علمی خدمات پر مل چکا ہے۔یہ شیخ صاحب بھی وفات مسیح کے قائل ہوئے اور انہوں نے کئی