مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 74 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 74

29 62 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم طور پر تعلیم و تربیت دی۔اور نمازوں کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا رہا۔چنانچہ مشن ہاؤس میں (جوی کرایہ کا مکان تھا ) با قاعدہ نماز جمعہ ہوتی تھی۔اور بعد میں سلسلہ گفتگو و مسائل ہوتے تھے۔اور ہر اتوار کو علمی و تربیتی میٹنگ ہوتی تھی جس میں متعدد زیر تبلیغ دوست بھی شامل ہوتے تھے۔اس کے علاوہ ہر عید کی نماز و پارٹی بڑے ذوق وشوق سے منائی جاتی تھی۔اور مشن ہاؤس اس موقع پر پُر رونق و آباد ہو جاتا تھا۔یہ عرصہ تبلیغ احمدیت کے لحاظ سے بھی ایک نہایت مشغول و کامیاب عرصہ تھا۔چنانچہ اس عرصہ میں ظہور مسیح موعود و مام مہدی علیہ السلام پر خاص طور پر زور دیا گیا۔اور ہزاروں لوگوں تک اس کی بشارت دی گئی۔اور خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ جن لوگوں کو مسلسل اور باقاعدہ طور پر تبلیغ کی جاتی رہی وہ بالآخر احمد ی ہو گئے۔چنانچہ اس قلیل عرصہ میں سولہ عدد بالغ افراد نے احمدیت کی نعمت سے حصہ پایا اور شرف بیعت حاصل کیا۔اور اگر ان کے تمام اہل خانہ اور بچوں کو شامل سمجھا جائے تو ان کی تعداد قریباً ستر اسی بنتی ہے۔الحمد للہ ان کو احمدیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے استاد، پروفیسر، با قاعدہ شیخ وخطیب اور تاجر پیشہ صاحبان شامل ہیں۔لبنان میں جماعت کافی ہے مگر وہاں با قاعدہ مشن ہاؤس اور مستقل مبلغ کی ضرورت ہے۔لوگوں کا احمدیت کی طرف باوجود مخالفت کے میلان دن بدن ترقی کر رہا ہے۔تمام مشکلات کے باوجود وہاں جگہ پیدا کی جاسکتی ہے اور مشکلوں کو زیر کیا جا سکتا ہے۔اس لئے جماعت کی تنظیم و تربیت کے پیش نظر وہاں پر مستقل مشن کی اشد ضرورت ہے۔ایک خاص خدمت کا جو موقع ملا وہ اپنے وطن عزیز پاکستان کی خدمت تھی۔چنانچہ اس بارہ میں خاکسار نے پاکستان کو متعارف کرانے اور اس کی کشمیر کی مشکل کی وضاحت کرانے میں کافی کام کیا۔اور لبنان کی یونیورسٹی میں اردو زبان اور بنگالی زبان کی تعلیم و تدریس کی سکیم پیش کر کے ان کی منظوری لی گئی۔چنانچہ اب وہاں پر ان تینوں زبانوں کی تعلیم شروع ہو جائے گی۔دونوں حکومتیں متفق ہو چکی ہیں۔لبنان میں ابھی تک ہمارا کوئی مشن ہاؤس و مسجد تعمیر نہیں ہوئی۔ہمارا لٹریچر بھی وہاں مستقل ہے اور اگر زیادہ توجہ دی جائے تو لبنان میں احمدیت زیادہ مضبوط ہو جائے گی اور بے حد مفید ہو۔