مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 65 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 65

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول رویا اور اس کے پورا ہونے کا انتظار مجھے کو بارہ تیرہ سال کا عرصہ ہوا جبکہ میں نے مکہ معظمہ میں ایک خواب دیکھا تھا جس میں میں نے امام مہدی علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔اور اس خواب کے ظہور کا ہمیشہ منتظر رہتا تھا۔اس کے بعد میں نے متعدد مقامات ومختلف اوقات میں کچھ آوازیں سنیں کچھ خواب دیکھے مگر حضرت اقدس کی خبر بھی جب تک میرے کان میں نہیں پہنچی تھی۔رفتہ رفتہ جب ہندوستان میں آنے کا اتفاق ہوا تو میں نے یہ سنا کہ ایک شخص مرزا غلام احمد صاحب قادیان میں ہیں جنہوں نے دعویٰ مسیحیت و مہدویت کیا ہے تو یہ بات کچھ ایسی بھیانک اور غیر مانوس معلوم ہوتی ہے کہ اندازہ سے باہر اور خاص کر مخالفین کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوا۔مگر إِذَا أَرَادَ اللهُ أَمْرًا هَيَّاً أَسْبَابَهُ ( یعنی جس چیز کا اللہ ارادہ فرمائے اسکے اسباب بھی بہم پہنچا دیتا ہے۔ناقل ) کے موافق حق کی روشنی مجھ پر ظاہر ہوئی۔جب میں پنجاب میں پہنچا تو قریب تین ماہ کے امرتسر میں رہنے کا اتفاق ہوا۔وہاں بھی حضرت اقدس کے مخالفین ہی سے زیادہ تر ملنے کا اتفاق رہا جن سے بجز مخالفت کے دوسری بات ہی نہ سنتا تھا۔الغرض ایسی حالت میں جماعت احمدیہ میں سے دو ایک شخصوں سے حیات و وفات مسیح کے متعلق کچھ نیم گفتگوی ہو کر رہ گئی۔بحث نا تمام رہی ، دوسرے روز پر ملتوی ہوئی ، دوسرے روز بھی کسی وجہ سے ملتوی ہوگئی۔“ سفر قادیان اور حیرت انگیز تبدیلی 61 شب کو میں نے حضرت اقدس کو خواب میں دیکھا اور جن لوگوں میں مباحثہ ٹھہرا تھا بلا تامل یہ کہہ دیا کہ اس کا فیصلہ خاص دن میں جا کر جناب مرزا صاحب سے ہی ہوگا۔جیسے میرے دل میں اس جوش کے ساتھ یہ ارادہ ہوا کہ جس قدر جلدی ہو سکے قادیان پہنچوں یہاں تک کہ میں قادیان پہنچا۔راہ میں بلکہ پہنچکر بھی بہت سی باتیں میرے دل میں تھیں مگر پہنچتے ہی وہ باتیں خود بخود دل سے نکلنی شروع ہوگئیں۔میں اس کو بجز کرامت یا اعجاز کے کیا کہہ سکتا ہوں۔قادیان دار الامان میں پہنچ کر دوسرے روز حضرت اقدس ( روحی فراہ) کی قدم بوسی سے مشرف ہوا جو کیفیت مجھ کو حاصل ہوئی اس کو مخالفین کے لئے میں ان کی