مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 66
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول لفظوں میں ادا کرتا ہوں۔۔۔کسی کا شعر ہے: لطف مئے تجھ سے کیا کہوں زاہد ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں وو ”بدر‘ کی پیشانی پر جو شعر لکھا ہوا ہے : چہ گوئم با تو گر آئی چها در قادیان بینی دوا بینی ، شفابینی ، غرض دار الامان بینی بالکل سچ ہے۔میری زبان پر یہ شعر ہر وقت جاری رہتا ہے۔“ بیعت اور رویا 62 دوسری بار جو حضرت اقدس سے نیاز حاصل ہوا تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے بیعت کر ہی لی۔اس وقت میری زبان پر یہ کلمات جاری ہوئے کہ جو حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقَّاً ) اس کے بعد میں موافق عادت کے دو پہر کو سو گیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ آپ فرماتے ہیں ہماری رائے تجھ کو ابھی بیعت کرنے کی نہیں تھی ، ہم چاہتے تھے کہ اپنے شکوک پورے طور پر رفع کر لیتا تو بہتر تھا۔میں نے عرض کیا کہ میرے دل میں ایسے شکوک ہی نہیں رہے کہ جن کے ازالہ کی ضرورت ہو۔دوسرے روز میں نے یہ خواب آپ سے عرض کیا کہ واقعی ہمارے دل میں یہی بات تھی کہ جو تو نے دیکھی اس کے بعد آپ نے مہتم کتب خانہ کو حکم فرمایا کہ جو تصنیف میں مانگوں مجھ کو دی جاوے۔چنانچہ آٹھ دس تصنیف میں نے لیں۔ازاں جملہ حمامۃ البشریٰ جس کو میرے ساتھ خاص تعلق ہے۔اس کی تعریف سے تو میری زبان قاصر ہے۔۔۔واقعی یہ تقریر اور یہ تحریر خارق عادت سوائے معجزہ کے اور کیا ہوسکتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ مخالفین کو نظر نہیں آتا۔بجز اس کے کیا کہا جا سکتا ہے : ( وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُوراً فَمَا لَهُ مِن نُورٍ )۔تفہیمات ربانیہ یہاں پہنچ کر جو کیفیتیں مجھ پر وارد ہوئیں ان کا بیان نہیں کر سکتا۔وفات مسیح جس کا میں سخت مخالف تھا۔اس کے متعلق مجھ کو عجیب عجیب مضامین سوجھنے لگے اور مجھ کو خود یہ امر