مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 62
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کمال یوسف صاحب کی والدہ ماجدہ تھیں۔ان کا ایک رضاعی تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس خاندان سے یوں بھی تھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پہلو ٹھے فرزند صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک پر حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ( نانی جان سید کمال یوسف صاحب) نے دودھ پلایا تھا اور اس طرح والدہ صاحبہ سید کمال یوسف صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم کی رضاعی بہن تھیں۔قادیان میں مستقل سکونت اگر چہ جدہ میں اس وقت کے شریف مکہ سے حضرت ابو بکر یوسف صاحب کے گہرے روابط تھے اور شاہی خاندان میں اٹھنا بیٹھنا تھا مگر پھر کسی وقت حالات میں تغیر آیا اور آپ قبول احمدیت کی وجہ سے جدہ سے ملک بدر کر دیئے گئے۔اور ایسے ہی احمدیت کی مخالفت میں پیٹن کے ہم قبیلہ احباب نے بھی آپ کا معاشرتی اور اقتصادی مقاطعہ کر دیا تھا۔جدہ اور پیٹن چھوڑ کر خلافت ثانیہ کے عہد میں ہجرت کر کے ہمیشہ کے لئے قادیان آگئے۔جب آپ قادیان آئے تو بروایت صاحبزادی بی بی امۃ الرشید صاحبہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے از راہ ذرہ نوازی اور شفقت کے اپنے تمام خاندان کو آپ کے استقبال کے لئے قادیان کے ریلوے سٹیشن بھجوایا۔آ۔صاحبزادی بی بی امتہ الرشید صاحبہ فرماتی ہیں کہ ریلوے سٹیشن پر آپ اور آپ کے اہل وعیال کے رئیسانہ رکھ رکھاؤ اس وقت ایسا منظر پیش کر رہے تھے کہ ہم بچوں کا یہ تاثر تھ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے آپ کی ذات میں پورا ہوتا نظر آ رہا تھا۔باوجود اسکے آپ کی تجارت اقتصادی مقاطعہ کی بدولت کساد بازاری کا شکار ہو چکی تھی قیام قادیان میں پاکستان ہجرت کرنے تک آپ بڑی حد تک آسودہ حال رہے۔ایک دفعہ از راہ ذرہ نوازی اور شفقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے ایک وقت اس قدر نقد چندہ دینے کی توفیق پائی جو ساری جماعت کے مجموعی چندہ سے زیادہ تھا۔58