مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 63 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 63

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 59 قادیان میں آپ کا مختلف جگہوں میں قیام رہا۔آپ کی آخری قیام گاہ حلقہ مسجد مبارک فخر الدین ملتانی کی حویلی سے ملحقہ ایک پختہ مکان تھا جس میں چار فیملی یونٹس تھے۔آپ بالا خانہ میں رہتے تھے۔اور حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ رضی اللہ عنہ امیر جماعت قادیان کی ہمسائیگی میں تھے۔آپ نے مسجد مبارک سے ملحقہ کچھ دکانیں بھی خرید لی تھیں جن کا کرایہ آتا تھا۔ضرورت کے وقت اپنے ہیروں کے اندوختہ میں سے کوئی ہیرا بیچ کر گزر بسر کر لیتے اور جس دن ہیرا بکتا اہل قادیان کی دعوت کرتے اور جس جس گھر ضیافت بھجواتے تو تو شہ برتن واپس نہیں لیتے تھے۔قادیان سے جب ربوہ ہجرت کی تو انجمن کے دو کمروں کے جونیئر کوارٹر میں سولہ افراد خانہ کے ساتھ وفات تک قیام کیا۔ایک لمبا عرصہ خوشحال اور آسودگی کی زندگی گزارنے کے بعد سخت عسر اور شدید مالی تنگی کے کڑے اور تلخ دن بھی دیکھے مگر تقویٰ کی زاد راہ سے مالا مال اور ایمان کی متاع سے شاد کام رہے۔الحمد للہ ثم الحمد للہ وفات اور آخری آرام گاہ آپ 10 جنوری 1955 کو 90 سال کی عمر پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ نمبر B10/4 میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ، حضرت خلیفہ ثالث رحمہ اللہ ، حضرت ام المؤمنین نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا اور آپ کی بیٹی حضرت ام وسیم صاحبہ قطعہ خاص الخاص کی چار دیواری کے سایہ اور صحابہ کبار کے مدفنوں کی معیت میں آسودہ خاک ہیں۔0000