مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 61
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 57 کیا ہے۔بہر حال کثرت سے آپ کے غریب خانہ پر احمدی حجاج قیام فرمایا کرتے تھے۔این سعادت بزور بازو نیست جہاں آپ کے خاندانِ حضرت مسیح پاک اور آپ کے کبار صحابہ اور مخلص احباب جماعت حجاج کی خدمت گزاری کی سعادت حاصل ہوئی وہاں آپ کی انتہائی خوش نصیبی کی بات یہ ہے کہ یکم فروری 1926 کو آپ کی بیٹی الحاجہ سیدہ عزیزہ بیگم المعروف به ام وسیم صاحبہ کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے عقد زوجیت میں قبول فرمایا اور اس طرح آپ کی بیٹی بطور حرم خامس حضرت مصلح موعود کی طرف منسوب ہو کر خواتین مبارکہ کے مقدس زمرہ میں شامل ہوئیں اور امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درخت وجود کی سرسبز شاخ بننے کی سعادت دارین پائی۔این سعادت بزور بازو نیست گر نہ بخشد خدائے بخشندہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مقدس جوڑے کی مبارک نسل سے صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم و مغفور در ولیش قادیان و امیر جماعت قادیان و ناظر اعلیٰ صدر انجمن بھارت اور صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب مرحوم و مغفور افسر امانت تحریک جدید پاکستان پیدا ہوئے۔حضرت سیٹھ ابوبکر یوسف صاحب کی ایک بیٹی الحاجہ حلیمہ یوسفیہ مکرمی شیخ بشیر احمد صاحب مرحوم و مغفور ایڈووکیٹ ، امیر جماعت احمد یہ لاہور سے بیاہی گئیں۔اور آپ کے ایک بیٹے (سید کمال یوسف صاحب کے والد ماجد ) مکرمی محمد سعید یوسف صاحب مرحوم و مغفور کی شادی حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ مفتی سلسلہ عالیہ احمد و پرنسپل جامعہ احمدیہ کی بیٹی الحاجہ سیدہ حلیمہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔مکرمی و محترم چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ فلسطین و گیمبیا کی روایت کے مطابق فلسطین جماعت کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب کشتی نوح کا عربی ترجمہ جب پہلی بار فلسطین سے شائع ہوا تو اس کی اشاعت کے اخراجات محمد سعید یوسف صاحب مرحوم نے پیش کئے تھے۔ابو بکر یوسف صاحب کی بہوا اور محمد سعید یوسف صاحب کی اہلیہ مبلغ سلسلہ مکرم سید