مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 31 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 31

31 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل رکھی۔انہوں نے ایک موحد اور مومن کو تحریر و تقریر میں کافر کہا ہے اور میری تکفیر میں جلد بازی پر نادم نہیں ہیں، بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ وقت تجدید دین اور شیطان کو شکست دینے کے لئے آنے والے مجدد کے ظہور کا نہیں ہے۔وہ نہیں دیکھتے کہ ظلمت چھا گئی ہے اور دشمن اسلام پر حملہ آور اور نقب زن ہے۔زمین پر صلیب کی عبادت کرنے والی قوم کا غلبہ ہے جو ہر ایک کو گمراہ کرنے پر کمر بستہ ہو گئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کی اس حالت پر رحم فرماتے ہوئے ایک بندہ کو تجدید دین اور اتمام حجت کے لئے کھڑا کیا تا وہ ان کو ظلمتوں سے نکال کر روشنیوں کی طرف لائے۔میں نے یہ دکھ درد آپ کے سامنے اس لئے بیان کئے ہیں کہ تا آپ کو اسلام کی کمزور حالت پر رحم آئے۔میں آپ کو نیک اور مخلص نوجوان سمجھتا ہوں۔آپ نے اپنے الفاظ سے مجھے خوش کر دیا ہے اور پیار بھری باتوں سے اس عاجز مورد طعن و ملامت کو تسلی دی ہے۔اللہ آپ کو اس کی بہترین جزا عطا فرمائے اور آپ پر رحم فرمائے۔وہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔سچائی کا اظہار، روحانی خزائن جلد 6 ص77-78) حضرت مسیح موعود کے قلم مبارک سے آپ کے اوصاف کا بیان والا ہو۔۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: اور میں نے ان کتابوں ( التبلیغ تحفہ بغداد ، کرامات الصادقین ، حمامۃ البشری۔ناقل ) کو صرف زمین عرب کے جگر گوشوں کے لئے تالیف کیا ہے۔اور میری بڑی مراد یہی تھی کہ ان مقدس جگہوں اور مبارک شہروں میں میری کتابیں شائع ہو جائیں۔پس میں نے دیکھا کہ کتابوں کا ان ملکوں میں شائع ہونا ایک ایسے نیک انسان کے وجود کی فرع ہے جو شائع کرنے سوئیں تضرع کے ہاتھ اٹھاتا اور دعائیں عاجزی سے کرتا تھا کہ یہ آرزو اور مراد میرے لئے حاصل اور متحقق ہو یہاں تک کہ میری دعا قبول ہوگئی اور میری طرف خدا کا فضل ایک ایسے آدمی کو کھینچ لایا جو صاحب علم اور فہم اور مناسبت تھا اور نیک بختوں میں سے تھا۔اور میں نے اس کو پاک اصل اور پسندیدہ خلق والا اور پاک فطرت والا اور دانا اور پر ہیز گار پایا۔سومیں اس کی ملاقات سے جو میری عین مراد تھی خوش ہوا اور اپنی دعا کا پہلا پھل میں نے اس کو خیال کیا۔اس مجمل بیان کی تفصیل یہ ہے کہ بلا دشام سے ایک جوان صالح