مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 32
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول میں 32 خوشر و میرے پاس آیا ، یعنی طرابلس سے ، اور حکیم و علیم اس کو میری طرف کھینچ لایا اور قریب سات مہینے کے یعنی اس وقت تک میرے پاس رہا اور میں نے فراست سے اس کے وجود کو باخیر دیکھا اور اس میں رشد پایا اور اس کے چہرہ میں صلاحیت کے انوار پائے اور صلحاء کے نشان پائے۔پھر میں نے اس کے حال اور قال میں غور کی اور اس کے ظاہر اور باطنی تفحص کیا اور اس نور اور الہام کے ساتھ دیکھا جو مجھ کو عطا کیا گیا ہے۔سو میں نے کی مشاہدہ کیا کہ وہ حقیقت میں نیک ہے اور متانت عقل اس کو حاصل ہے اور آدمی نیک بخت ہے جس نے جذبات نفس پر لات ماری اور ان کو الگ کر دیا ہے اور ریاضت کش انسان ہے۔پھر خدا نے اس کو کچھ حصہ میری شناخت کا عطا کیا، سو وہ بیعت کرنے والوں میں داخل ہو گیا۔اور خدا تعالی نے ہماری معرفت کی باتوں میں سے ایک عجیب دروازہ اس پر کھول دیا۔اور اس نے ایک کتاب تالیف کی جس کا نام ایقاظ الناس“ رکھا اور وہ کتاب اس کے وسعت معلومات پر دلیل واضح ہے اور اس کی رائے صائب پر ایک روشن حجت ہے اور وہ کتاب ہر ایک مباحث کے لئے ہر ایک میدان میں کفایت کرتی ہے۔اور جب اس نے اس کتاب کا تالیف کرنا شروع کیا تو بہت سی کتابیں حدیث اور تفسیر کی جمع کیں اور ہر ایک امر میں پوری غور کی سو یہ کتاب اس کے فکروں کا ایک دودھ اور اس کی نظروں کا ایک نور ہے اور عارف کی علامت اس کی معرفت کی باتیں ہی ہوتی ہیں۔اور جب میں نے اس کی کتاب کو پڑھا اور صفحہ صفحہ کر کے اس کے باب دیکھے اور اس کی چادر اٹھائی تو میں نے اس کے بیان کو بیچ پایا اور اس کی شان کی میں نے تعریف کی اور میں نے اس میں کوئی ایسی بات نہ پائی جو اس کو بٹہ لگائے۔اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس کی کتاب کو میری کتابوں کے ساتھ شائع کرے اور اس میں قبولیت رکھ دیوے اور اس میں اپنی روح داخل کرے اور بعض دل پیدا کرے جو اس کی طرف جھک جاویں۔اور اس کے مؤلف کو دونوں جہانوں میں بدلہ دے اور اس کے مقاصد میں برکت ڈالے اور اس کو مقبولوں میں داخل کرے۔اور جب وہ اپنی تالیف سے فارغ ہوا تو اس کے اخلاص نے اس کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ہماری معرفت کی باتوں کو اپنے وطن کے علماء تک پہنچاوے اور ہماری خبریں ان میں پھیلا دے۔اور منادی بن کر ہر ایک طرف آوازیں پہنچا وے اور کتابوں کو شائع کرے تا ان لوگوں پر حقیقت کھل جاوے اور یہ وہی مراد ہے جس کے