مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 30 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 30

30 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول اگر مجھے قوت پرواز ہوتی تو میں وفورشوق سے آپ کی طرف اڑتا چلا جا تا اور کبھی گریز نہ کرتا۔لیکن کیا کروں کہ میرے پر کٹے ہوئے ہیں اور پر کٹا پرندہ پرواز کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔تاہم جب تک قدم آپ کی طرف چل کے نہیں جا سکتے تب تک قلم سے ہی یہ پیاس بجھا تا ہوں کیوں کہ خط بھی تو آدھی ملاقات ہے اور ویسے بھی جب پانی میسر نہ آ سکتا ہو تو اسکے متبادل کو ہی اختیار کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے اس خط کے جواب میں اعلیٰ درجہ کی فصیح و بلیغ عربی زبان میں خط لکھا جس کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے: ”اے میرے پیارے اور مخلص مجھے تمہارا نامہ گرامی ملا۔اسے کھول کر دیکھا اور اس کے مندرجات کو پڑھا تو پتہ چلا کہ یہ ایک سچے، پارسا، صاحب فہم و عقل اور صائب الرائے، صاحب بصیرت ناقد دوست کی طرف سے اس عاجز کے نام آیا ہے جسے تکفیر کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ہر چھوٹا بڑا اسے چھوڑ کر الگ ہو گیا ہے۔ایسی حالت میں آپ جیسا تسلی دینے والا فاضل عربی محبت عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے مجھے آپ جیسے شرفاء کی محبت کی بشارت دی ہوئی ہے۔میں نے عرب ممالک اور شام بھجوانے کے لئے ایک کتاب لکھی ہے تا میں ان معزز لوگوں کی طرف سے مدد پاؤں۔ان بابرکت ایام میں آپ کا خط ملا تو میں نے اسے عرب ممالک کے اثمار میں سے پہلا ثمر خیال کیا۔اور اسے شرق وغرب کی اصلاح کے کام کے لئے نیک فال کے طور پر لیا۔اور میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ خدا تعالیٰ مجھے آپ کے ممالک میں لے جائے تا میں آپ لوگوں کے دیدار سے متمتع ہوسکوں۔برادر من! اس ملک کے علماء نے مجھے کافر قرار دیا ، میری تکذیب کی، مجھے پر بہتان لگائے اور لعن طعن و بیہودہ گوئی کی مجھ پر بھر مار کر دی ہے۔لہذا میں ان علماء اور ان کے علم سے بیزار ہو گیا ہوں اور ان لوگوں کے اسلام میں شک کرنے والوں میں سے ہو گیا ہوں۔ان کے دلوں کو بدظنی کرنے اور خدائے معبود کی گستاخی کرنے میں یہود کے مشابہ پاتا ہوں۔یہ مجھے کافر قرار دینے پر مصر ہیں اور انہوں نے مجھے تکلیف دینے کی کوئی کسر نہیں اٹھا