مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 524
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 500 اسلام سے پیشتر بھی عربوں کے اندر خوبیاں پائی جاتی تھیں تو اسلام کی فوقیت اور اُس کا مایہ الا متیاز کرہ کیا ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر بعض خوبیاں چاہے وہ قومی ہوں یا انفرادی پایا جانا اور بات ہے اور ایک ایسی خوبی اس کے اندر ہونا جو اُسے تمام دنیا کا اُستاد بنا دے اور بات ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ عربوں کے اندر پہلے کوئی خوبی نہ تھی اور نہ ہی ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي البَرِّ وَالبَحْر کا یہ مفہوم ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں میں کوئی خوبی نہ تھی۔اس کے بعد حضور نے مختلف واقعات کی روشنی میں مفصل طور پر اس مضمون پر روشنی ڈالی اور آخر پر فرمایا: عربوں نے اس طرح اسلام کو قبول کیا اور پھر ساری دنیا میں پھیلایا کہ دنیا حیران رہ گئی اور وہ ایک قلیل عرصہ میں دنیا کے معتد بہ حصہ پر اسلام پھیلانے کا موجب ہوئے۔پس عربوں کا بالقوہ نیکی کا انکار کوئی اندھا ہی کرے تو کر سکتا ہے لیکن عقل اور دماغ رکھنے والا انسان کبھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ عربوں کے اندر جو بالقوہ نیکی موجود تھی وہ اور کسی قوم کے اندر نہ تھی۔الفضل 3 ، 5 ،12،9،8،7 ستمبر 1961ء) 00000 XXXXXXXXXXXX