مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 523 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 523

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 499 عربی زبان اپنے اندر بہت بڑا فلسفہ رکھتی ہے اور یہ فلسفہ کسی اور زبان میں نہیں پایا جاتا۔مثلاً دوسری زبانوں میں الفاظ زبان کی اصل ہیں لیکن عربی زبان میں الفاظ نہیں بلکہ حروف زبان کی کی اصل ہیں۔شرب عربی زبان میں پینے کو کہتے ہیں مگر یہ معنی شرب کے نہیں بلکہ ش رب کے ہیں چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ش رب کسی ترتیب سے عربی میں آجاویں ان کے مرکزی معنی قائم رہیں گے خواہش رب ہو، خواہ ش ب رہو، خواہ ربش ہو۔غرض ہر حالت میں مرکزی معنی قائم رہیں گے گویا عربی زبان میں حروف، ترتیب حروف اور حرکات حروف کے مجموعہ سے لفظ کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔اور یہ قاعدہ ایسا ہے کہ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے جب قدیم ترین زبانوں کو دیکھا جائے تو قاعدہ ابدال کے مطابق تغیرات کے ساتھ ہزاروں ایسے الفاظ ان میں پائے جاتے ہیں جو اصل میں عربی ہیں اور چونکہ ان لفظوں کو نکال کر وہ زبانیں بالکل بے کار ہو جاتی ہیں اس لئے مانا پڑتا ہے کہ وہ زبانیں مستقل نہیں بلکہ عربی سے ہی متغیر ہو کر بنی ہیں لیکن انہوں نے اریمک زبان کو عربی زبان پر فضلیت دینے کے لئے یہ کہہ دیا کہ عربی زبان نقل ہے اریمک زبان کی ، جو در حقیقت یہودیوں کی زبان تھی۔دوسری تدبیر انہوں نے یہ کی کہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ عرب کے مشہور اور اعلیٰ درجہ کے تمام شعراء عیسائی تھے۔چنانچہ اس کے ثبوت میں انہوں نے قیس اور اخطل اور دوسرے شعراء کے نام پیش کر دیئے اور کہا کہ عرب کے اعلیٰ درجہ کے شاعر سب عیسائی تھے اور انہوں نے ہی عربی زبان کو معراج کمال تک پہنچایا ہے۔گویا اس وجہ سے کہ مسلمان چاہتے تھے ہم ترکوں کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں عیسائی پادریوں نے جو سخت متعصب تھے سمجھا کہ اس سے زیادہ اچھا موقع عیسائیت کے غلبہ کا اور کوئی ہاتھ نہ آئے گا اور یہ ایسا وقت ہے کہ ہم جو کچھ بھی کہیں گے مسلمان قبول کرتے جائیں گے اور ہماری کسی بات کی تردید نہیں کریں گے۔اُس وقت حالت بالکل ایسی ہی تھی کہ اگر مسلمان عیسائیوں کی ان باتوں کی تردید کرتے اور کہتے کہ شعراء تمہارے نہیں بلکہ ہمارے اچھے ہیں تو آپس میں اُلجھ کر رہ جاتے اس لئے مسلمانوں نے اسی میں اپنی بھلائی سمجھی کہ ان کی کسی بات کی نفی نہ کی جائے تاکہ یہ ہم سے خوش ہو جائیں۔پس مسلمانوں کی اس مجبوری سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے متعصب عیسائیوں نے اپنی کتابوں میں بے حد مبالغہ سے کام لیا اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ عربی لغت اریمک کی ممنونِ احسان ہے اور عربی زبان میں جس قدر کی ترقی ہوئی ہے وہ عیسائی شعراء کے ذریعہ ہوئی ہے۔باقی رہا اصل سوال تو وہ یہ ہے کہ اگر