مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 525 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 525

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 501 ربوہ کو تر ا مرکز توحید بناکر۔۔۔۔۔۔( دعوت اتحاد) ربوہ کے افتتاح کے موقعہ پر 20 ستمبر 1948ء کو حضرت مصلح موعود نے ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا جس میں دعاؤں اور دیگر اہم امور کے علاوہ جماعت احمدیہ کو عالمی وحدت کا پلیٹ فارم قرار دیا جس میں عربوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ذیل میں اس حصہ کو پیش کیا جاتا ہے۔”جب تک احمدیت دنیا میں غالب نہیں آ جاتی۔اسلام غلبہ نہیں پاسکتا۔اور یہ اتنی موٹی بات ہے کہ میں حیران ہوں مسلمان اسے کیوں نہیں سمجھتے اور کیوں وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ باوجود الفت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ دنیا میں کیوں ذلیل ہورہے ہیں۔سیدھی بات ہے مسلمان اس وقت پچاس کروڑ ہیں اور احمدی پانچ لاکھ مگر چار پانچ لاکھ احمدی جتنی اسلام کی خدمت کر رہا ہے جس قدر اسلام کی تبلیغ کر رہا ہے اور جس قدر اشاعت اسلام کے لئے قربانیاں پیش کر رہا ہے اتنی پچاس کروڑ مسلمان نہیں کر رہا۔اس وقت دنیا کے گوشہ گوشہ میں احمدی مبلغ پھیلے ہوئے ہیں اور وہ عیسائیت کا مقابلہ کر رہے ہیں اور مقابلہ بھی معمولی نہیں بلکہ بڑی بڑی عیسائی طاقتوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کا مقابلہ مؤثر ہے۔یہ طاقت ہم میں کہاں سے آئی ہے؟ اور یہ جوش ہم میں کیوں پیدا ہوا؟ اسی لئے کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم میں ایک آگ پیدا کر دی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پھر دوبارہ اسلام کو دنیا میں غالب کر دیں۔پس مسلمان احمدیت کا جتنا بھی مقابلہ کرتے ہیں وہ اسلام کے غلبہ میں اتنی ہی روکیں پیدا کرتے ہیں اور جتنی جلدی وہ احمدیت میں شامل ہو جائیں گے اتنی جلدی ہی اسلام دنیا میں غالب آ جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت جس قدر تحریکیں دنیا میں جاری ہیں وہ ساری کی ساری دنیوی