مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 25
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول الْعُلَمَاءِ ، وَحَوَى حُسُنَ البَيَانِ كَالأَدَبَاءِ ، فَإِنِّي أَسْتَعْرِضُهُ لَو كَانَ مِنَ الْمُعَارِضِيْنَ الْمُنْكِرِينَ۔“ (روحانی خزائن جلد 11 ص 234) اور باوجود بہت ہی تھوڑی جدو جہد اور کوشش کے میرا عربی زبان میں کمال حاصل کرنا میرے رب کی طرف سے ایک واضح نشان ہے تا وہ لوگوں پر میرا علم اور ادب ظاہر فرمائے۔پس کیا میرے مخالفین کے گروہ میں کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے؟ اسکے ساتھ ساتھ مجھے عربی زبان کے چالیس ہزار لغات ( الفاظ ) بھی سکھائے گئے ہیں اور مجھے ادبی علوم میں کامل وسعت عطاء ہوئی ہیں باوجود یکہ میں اکثر بیمار رہتا ہوں اور صحت کے اوقات کم ہی ہوتے ہیں۔یہ میرے رب کا فضل ہے کہ اس نے مجھے بنی فرات ( فارسی ترجمہ میں لکھا ہے کہ اس سے مراد عباسی دور کے چار وزراء ابو الحسن علی، ابو عبد اللہ جعفر ، ابوعیسی ابرہیم اور ان تینوں کے والد محمد بن موسیٰ بن حسن بن فرات ہیں) سے بھی زیادہ قادر الکلام بنایا ہے۔اور میرے بیان کو میٹھے پانی سے بھی زیادہ شریں بنایا ہے۔اور جیسے کہ اس نے مجھے ایسے ہادیوں میں سے بنایا ہے جو خدا سے براہ راست ہدایت پاتے ہیں ویسے ہی اس نے مجھے سب سے زیادہ بلیغ الکلام بنایا ہے۔پس کتنے ہی ادب کے شہہ پارے مجھے عطا ہوئے ہیں اور کتنے ہی خوبصورت کلمات مجھے سکھائے گئے۔پس ہر وہ شخص جو زبان کا ماہر ہے اور ادباء کی طرح حسن بیان پر قادر ہے اسے میں مقابلہ پر بلاتا ہوں اگر وہ مخالفت اور انکار کرنے۔والوں میں سے ہے۔ان الفاظ کے ساتھ آپ نے بڑی تحدی کے ساتھ یہ دعویٰ پیش کیا اور آخر عمر تک دہراتے رہے لیکن کسی کو آپ کے مقابلہ کی جرات نہ ہوئی۔بعد ازاں آپ نے یہ بھی لکھا کہ اگر کوئی ایک فرد مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا تو میری طرف سے اجازت ہے کہ سب مل کر میرے مقابل پر آؤ اور میری جیسی فصیح و بلیغ اور معارف سے پُر عربی لکھ کر دکھاؤ، مگر کوئی بھی مقابل پر نہ آیا۔آپ نے اس چیلنج کو صرف ہندوستانی علماء تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ اسے عربوں اور مصریوں اور شامیوں تک وسیع کر دیا۔اور نثر و نظم ، جمع و غیر سمع اور مقفی وغیر مقلی فصیح و بلیغ عربی زبان میں کتابیں لکھیں اور ادب کے ہر میدان میں اپنے گھوڑے دوڑائے اور شاہسواری کا حق ادا کر دیا۔(ماخوذ از سلسلہ احمدیہ صفحہ 56 تا 58) 25 شما