مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 500 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 500

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 476 الجزائری نمائندہ احتفال العلماء کی ربوہ میں آمد کراچی میں احتفال العلماء کا ایک سہ روزہ اجلاس 16-17-18 فروری 1952 ء کو منعقد ہوا جس میں مسلم ممالک کے 43 علماء نے شرکت کی۔21 علماء پاکستان کے تھے اور 22 ایران، انڈونیشیا، عراق، افغانستان، مصر، شام، ہندوستان اور الجیریا سے تشریف لائے۔اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعہ استعماری طاقتوں کو خبر دار کیا کہ وہ کشمیر اور تمام دوسرے اسلامی ممالک کے متعلق اپنی پالیسی فوراً بدل لیں ورنہ امن عالم خطرہ میں پڑ جائے گا۔( زمیندار (لاہور) 19 فروری 1952 ، صفحہ 1) اجلاس میں الجزائر کی نمائندگی علامہ محمد بشیر الابرا ہیمی الجزائری نے کی جو اس ملک کے ایک مقتدر عالم اور قریباً 130 سکولوں کے نگران و ناظم تھے۔علامہ موصوف اجلاس کے بعد کراچی میں کچھ عرصہ قیام کے بعد 5 / ہجرت 1331 ہش بمطابق 5 مئی 1952ء کو مرکز احمدیت میں تشریف لائے۔آپ کے اعزاز میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہال میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں ربوہ کے عربی دان بزرگ اور اصحاب خصوصیت سے شامل ہوئے۔تلاوت قرآن عظیم کے بعد الجزائری مندوب کے ترجمان محمد عادل قدوسی صاحب نے آپ کا تعارف کرایا۔پھر اہل ربوہ کی طرف سے مکرم مولا نا ابو العطاء صاحب جالندھری مبلغ بلاد عربیہ و پرنسپل جامعہ احمدیہ نے خوش آمدید کہا۔آپ نے سب سے پہلے معزز مہمان کا شکر یہ ادا کیا کہ وہ گرمی کے موسم میں سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے ربوہ تشریف لائے جہاں نئی بستی ہونے کی وجہ سے نہ اشجار ہیں نہ پانی کی کثرت اور نہ یہ کوئی بڑا شہر ہے گوانشاء اللہ ربوہ ایک بڑا شہر بن جائے گا لیکن فی الحال اس کی حیثیت ایک چھوٹی سی بستی کی ہے جس میں شہروں جیسے آرام و سامان میسر نہیں آسکتے۔