مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 501
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 477 ازاں بعد آپ نے بتایا کہ جماعت احمدیہ کے تمام ممبر چھوٹے اور بڑے مرد اور عورتیں سب کے دماغ میں صرف ایک ہی بات سمائی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانا اور تمام مسلمانوں کو وحدت کے رشتہ میں پرونا ہے۔مولانا ابو العطاء صاحب کی تقریر کے بعد جناب علامہ محمد بشیر ابراہیمی نے الجزائری مسلمانوں کی فرانسیسی انقلاب کے خلاف تحریک آزادی کا ذکر کرتے ہوئے اپنی جد و جہد آزادی پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کس طرح طویل جدو جہد کے بعد الجزائر کو غلامی سے نجات ملی۔تقریر کا دوسرا حصہ تربیتی رنگ کا تھا جس میں آپ نے اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ مسلمان قوم پر جو آجکل نکبت واد بار کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس قوم کے ساتھ کوئی دشمنی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلامی تعلیم بھلا دی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان مسلمان نہیں رہے اور آپ لوگوں کا فرض ہے کہ جہاں آپ یورپ میں اسلامی تعلیمات پھیلاتے ہیں وہاں مسلمانوں کی اصلاح کو مقدم کریں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمان علماء کی حالت خصوصاً اعمال کے لحاظ سے نہایت ناگفتہ بہ ہے۔وہی ساری خرابی کے ذمہ دار ہیں۔وہ اسلام کی روح کو بھلا بیٹھے ہیں۔آپ کو ان کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔آخر میں آپ نے فرمایا یہاں میں اجنبیت محسوس نہیں کرتا کیونکہ کثرت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو عربی زبان مادری زبان کی طرح بول سکتے ہیں۔آپ کی تقریر کے بعد حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے صدارتی خطاب میں جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کا تذکرہ فرمایا اور دعا پر یہ تقریر ختم ہوئی۔الفضل 11 مئی 1952 ، صفحہ 5) ( تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 119-120 00000