مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 420
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 398 احمدی وفد مؤتمر عالم اسلامی کے دوسرے سالانہ اجلاس میں مؤتمر عالم اسلامی ممالک اسلامیہ کی عالمی تنظیم کا نام ہے جس کا قیام فروری 1949ء میں پاکستان کے پہلے دارالسلطنت کراچی میں ہوا۔اس موقع پر مسلم نمائندگان نے مؤتمر کا ایک دستور مرتب کیا جس کی بنیاد قرآن عظیم کے ارشادربانی إِنَّمَا الْمُؤْمِنونَ إِخْوَةٌ “ پر رکھی۔مؤتمر کا دوسرا سالانہ اجلاس اس سال 9 سے 13 فروری تک کراچی میں منعقد ہوا جس میں 35 اسلامی ملکوں کے مندوبین نے شرکت کی اور دنیائے اسلام کو در پیش مسائل پر اپنے ممالک کی نمائندگی کی اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ کشمیر، فلسطین اور دوسرے ان تمام اسلامی ممالک کو آزاد کرانے کی متحدہ کوشش کی جائے۔حضرت مصلح موعود کی دیرینہ خواہش تھی کہ عالم اسلامی کے متفرق اجزاء کسی طرح ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنی عالمگیر مشکلات حل کرنے کی راہ سوچیں اور ایک دوسرے سے ان کا رابطہ اور تعلق قائم ہو۔چنانچہ مئی 1947 ء کے بعد حضور نے لاہور، راولپنڈی، پشاور ، کوئٹہ اور کراچی میں متعدد تقریریں فرمائیں۔جن میں اس اہم ضرورت کی طرف مسلمانوں کو توجہ دلائی۔علاوہ ازیں 1950ء میں کراچی کے صحافیوں کی کانفرنس میں مسلمانوں کی تنظیم اور اتحاد پر بہت زور دیا۔مؤتمر عالم اسلامی چونکہ وحدت عالم اسلام کے لئے پہلا خوشکن قدم تھا جس کو اٹھانے کی توفیق پاکستان کو میسر آئی تھی۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد مبارک پر مؤتمر کے اس دوسرے اجلاس میں مرکز احمدیت سے ایک احمدی وفد نے خاص طور پر شرکت کی۔