مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 421
399 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوت و تبلیغ اس وفد کے امیر تھے اور چوہدری کی مشتاق احمد صاحب باجوہ وکیل التبشیر تحریک جدید اور ملک عمر علی صاحب نائب وکیل التبشیر اس کے رکن۔احمدی وفد کو مؤتمر کے ہر اجلاس کی کاروائی میں شامل ہونے کا موقع ملا۔نمائندگان وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، ان کی تقاریر سنیں اور ان تقاریب میں شریک ہوا جو مؤتمر کے نمائندوں کو سرکاری طور پر دی گئیں۔جماعت احمدیہ کراچی نے اس موقع پر حضرت مصلح موعود کی 1950ء کی کراچی پریس کانفرنس کو عربی اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا جو بیرونی ممالک کے مندوبین میں سے ایک معتد بہ حصہ کو دیا گیا تا وہ اپنے ملکوں میں واپس جائیں تو حضرت امام جماعت احمدیہ کے قیمتی افکار و خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی تدابیر اختیار کریں۔امیر وفد حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے اپنے ایک مفصل بیان میں مؤتمر عالم اسلامی کو عالم اسلامی میں وحدت اور اتحاد پیدا کرنے کی مبارک تحریک قرار دیا اور اپنے ایک مفصل بیان میں اس کی سرگرمیوں کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے بتایا کہ: تمام عرب مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ تمام باہمی فرقہ بندیوں کی حدود سے بالا تر رہ کر اس مؤتمر عالم اسلامی کی بنیاد اٹھانی چاہیے ورنہ یہ سانس لیتے ہی موت کا منہ دیکھے گی۔اقوام عالم کے مشترکہ مسیح سے یہ آواز ایک احمدی کے دل میں کس قسم کی خوشی پیدا کر سکتی ہے اس کا اندازہ اس مسلمہ حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ عرصہ سے ہماری جماعت کے اسٹیج سے یہ آواز بار بار بلند کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی مشتر کہ اغراض کی خاطر ایک سٹیج پر جمع ہو کر روح تعاون کے ساتھ اپنی عالمگیر مشکلات کا حل سوچنا اور اپنی حالت بہتر بنانے کے لئے اکٹھا ہو جانا کی چاہیے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہماری آواز بازگشت بے نتیجہ نہیں رہی اور اب ممالک اسلامیہ کے درمیان وحدت پیدا کرنے کی غرض سے مؤتمر عالم اسلامی کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے۔“ ان دنوں پاکستان اور بیرونی ممالک کے بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مؤتمر عالم اسلام کا قیام محض ایک سیاسی سٹنٹ ہے جس سے حکومت پاکستان اپنی ہر دلعزیزی اور مقبولیت بڑھانا چاہتی ہے تا کہ ملکی انتخابات کے لئے موافق اور سازگار حالات پیدا ہوں۔عرب نمائندگان میں سے بھی ایک نمائندہ نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان وفود کے پاس ان کی حکومتوں کی طرف سے کوئی اختیار نہیں اور نہ حکومتیں ایسا اختیار دے سکتی ہیں بلکہ اگر اختیار دے