مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 401 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 401

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 379 اور نہ ہی ان کو آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی وہ تمہارے گمان اور خیال کے مطابق آسمان سے نزول فرما ئیں گے تم کس خیال میں پھر رہے ہو۔ہم نے اس فتوئی اور ان حالات کو بچشم دید دیکھا اور حضرت مفتی صاحب سے کہہ دیا جو کچھ اس فتویٰ کے متعلق سنا اور دیکھا اور اس کی وجہ سے جو کچھ ہوا اور جو آئندہ ہوگا اس کا بھی ذکر کیا مگر مفتی صاحب نے اس کا یہ جواب ديا أنا أبديت رأيي ولا يضرنى أن أوافق القاديانية أو غيرهم - یعنی میں نے اپنی درست رائے کا اظہار کر دیا ہے اور مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ میری اس رائے سے قادیانی جماعت یا کسی اور کی تائید ہوتی ہے۔اسی سلسلہ میں یہ بھی لکھا :۔بعض اوقات مصلحت عامہ اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ بعض آراء کو ظاہر نہ کیا جائے اور ان کو زاویہ خمول اور طاق نسیان میں رکھ دیا جائے۔حضرت مفتی صاحب عالم مریخ میں زندگی بسر نہیں کرتے کہ ان کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ ان کو زمانہ کے حالات کا علم نہیں۔سرزمین ہند میں ایک گروہ جو قادیانی فرقہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس کی بحث اور کلام کا نقطۂ مرکزی موت عیسی اور عدم رفع ہے۔اس جماعت نے اپنے مبلغین ترکی ، البانیہ، شام، مصر، امریکہ اور انگلستان وغیرہ میں بھیجے ہوئے ہیں۔مفتی صاحب پر یہ واجب تھا کہ وہ اس گروہ کی مخالفت کر کے خدا کا قرب حاصل کرتے اور مسلمانوں کی تائید کرتے۔اگر وہ اس خیال سے بھی نہ کرتے تو کم از کم ان علماء و کبار کی تائید کرتے جنہوں نے اپنی زندگی ان قادیانیوں کے خلاف جہاد کے لئے وقف کر رکھی ہے۔اے مفتی ! تجھے تیرے رب کی ہی قسم ہے دیکھ کہ ہمارے ان ہندوستانی علماء بھائیوں کی کیا حالت ہوگی جنہوں نے کہ نزول عیسی کو ستر احادیث سے اور حیات عیسی و رفع عیسی کو ثابت کر دیا۔۔۔۔جب ان کو قادیانی جماعت کے ذریعہ سے یہ اطلاع ہوئی ہوگی کہ از ہر ان کی مخالفت کرتا ہے اور اس کی رائے ہے کہ ان مسائل میں نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ شبہ دلیل۔خدا ن کی قسم میں تجھ سے پھر پوچھتا ہوں کہ وہ کیا کہیں گے؟ اور ان کی کیا حالت ہوگی؟ مجھے یقین ہے کہ علمائے ہند دو احتمالوں میں مبتلا ہو جائینگے اور وہ دونوں ہی عار کا باعث ہیں۔یا تو وہ یہ کہیں گے کہ از ہر علماء سے خالی ہو چکا ہے۔یا وہ کتب ستہ یعنی صحاح ستہ اور کتب تفاسیر اور ان کی احادیث کی کتب سے جو کہ اہل علم کے درمیان متداول ہیں ان سے ناواقف ہیں یا وہ اس امر کا اظہار کرینگے کہ علمائے ازہر میں دینی جرات نہیں ہے جو کہ خصوصاً ایک مومن کے