مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 402 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 402

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 380 شامل حال ہونی چاہیے، چاہے وہ پہلی رائے کا اظہار کرینگے یا دوسری کا جامعہ از ہر کا رتبہ ان کی آنکھوں سے گر جائے گا اور قلوب سے تعظیم جاتی رہے گی اور علمائے ازہر کے متعلق وہ شاعر کا یہ قول پڑھیں گے وإخوانا حسبتموهم فكانوها، ولكن دروعا للاعادي اور کئی بھائی ہیں جن کو میں نے اپنے لئے زرہ یعنی بچاؤ کا ذریعہ خیال کیا تھا۔بیشک وہ آفات ومصائب سے بچانے کے لئے زرہیں تھیں لیکن حقیقت میں دشمنوں نے ان سے فائدہ اٹھایا۔(ماخوذ از الفضل 8 وفاہش 1325، 8 جولائی 1946 ءصفحہ 4-5) الشیخ الغماری نے علامہ شلتوت کو وفات مسیح کا صاف صاف اقرار کرنے کی پاداش میں 66 بُرا بھلا کہنے کے علاوہ ان کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا۔1۔استاذ شلتوت نے اپنی رائے کے اظہار میں غلطی کی ہے۔مفتی کو چاہیے کہ وہ قواعد افتاء اور اصول سے کما حقہ واقف ہو۔انہیں چاہیے تھا کہ وہ از روئے علم غور سے دیکھتے اس معاملہ میں جو ان کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا اور مستفتی (فتوی دریافت کرنے والے ) کے احوال کا خیال رکھتے ہوئے فتویٰ دیتے۔نیز یہ خیال کرتے کہ اس سوال کا مقصد کیا تھا کیونکہ بعض اوقات مفتی کے سامنے ایسا واقعہ پیش کرنے سے یہ غرض ہوتی ہے کہ اسے فتنہ برپا کرنے میں بطور جواب استعمال کیا جائے اس لئے مفتی کو چاہیئے کہ وہ بیدار اور روشن بصیرت والا ہو۔اور سوال کے مطابق جواب دے۔جیسے علماء سابقین کیا کرتے تھے۔۔یہ فتویٰ ہمارے ایک ہندوستانی احمدی بھائی بابو عبدالکریم صاحب یوسف زئی نے دریافت کیا تھا۔ان کے متعلق شیخ الغماری نے تحریر کیا۔ایک ہندوستانی فوجی جو کہ چوبیس گھنٹے موت کے منہ کے سامنے کھڑا ہے اور وہ لوگوں اور میں سے سب سے زیادہ محتاج ہے کہ وہ احکام تو بہ پر عمل کرے اور مظالم سے خلاصی کا طریقہ معلوم کرے اور حقوق اللہ والعباد کا علم حاصل کرے کیونکہ ان حالات میں اسے ان باتوں کی معرفت زیادہ ضروری ہے۔لیکن اسے کیا سوجھتا ہے؟ یہ کہ حضرت عیسی زندہ ہے یا وفات پا چکے ہیں؟ وہ آسمان سے نزول فرما ئیں گے یا نہیں؟ اسے یہ کیا خیال آیا اور ان سوالات سے یا تعلق؟ کیا اس نے تمام عقائد سے واقفیت حاصل کر لی ہے اور اس کے لئے سوائے اس