مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 358
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 338 احمدی موجود تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر ایک شر سے بچایا۔یہ حضرت چوہدری صاحب کی عاجزانہ دعاؤں کا نتیجہ تھا۔جب اسرائیل کی حکومت قائم ہوگئی تو حکومت نے عام اعلان کیا کہ تمام لوگ ہر قسم کا اسلحہ حکومت کو جمع کروا دیں اور حکومت گھر گھر جا کر تلاشی بھی لے رہی تھی۔اس وقت بعض احمدیوں نے سوچا کہ اسلحہ کے ذریعے ہماری حفاظت ہوگی۔چوہدری صاحب نے فرمایا کہ مزید اسلحہ نہ خریدا جائے اور جو ہے اس کو واپس کر دیا جائے۔اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرے گا۔اس کے باوجود بعض احمدیوں نے کچھ اسلحہ تہہ خانہ میں دبا دیا۔چوہدری صاحب جب فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے تو بڑے مسکرا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ دیکھو یہاں تہہ خانے میں آپ لوگوں نے اسلحہ چھپارکھا ہے۔سب احمدی حیران ہوئے کہ ان کو کیسے پتہ چل گیا۔چنانچہ وہ اسلحہ بھی حکومت کو واپس کر دیا گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت فرما کر تمام احمدی جماعت کو آنے والے شر سے جو خود احمدیوں کے ذریعے ہی پیدا ہونے والا تھا بچالیا۔رشدی بسطی صاحب اور ان کا اخلاص رشدی بسطی صاحب اس عرصہ کے نہایت مخلص، عالم اور اچھا لکھنے والے دوست تھے۔ان کے کئی مضامین البشری کی زینت بنے۔ازاں بعد انہوں نے لمبے عرصہ تک جماعت کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔جب فلسطین کی تقسیم ہو گئی تو کئی احمدی وقتی طور پر ہجرت کر کے شام کے علاقوں میں آگئے تھے۔شام کی حکومت کی طرف سے فلسطینی مہاجروں کو ماہوار معمولی رقم ملتی تھی۔اس معمولی رقم کے حصول کے لئے بعض اچھے رکھ رکھاؤ والے افراد بھی قطار میں کھڑے نظر آتے تھے۔ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو قطاروں میں کھڑے ہونے سے اس طرح بچا لیا کہ مکرم رشدی بسطی صاحب کی ایک اہلیہ کا تعلق اس وقت کے شام کے صدر ادیب الشیش کلی کے خاندان سے تھا بلکہ ان کا بھائی اس امدادی رقم کی تقسیم کا نگران تھا۔چنانچہ مکرم رشدی بسطی صاحب ہر ماہ تمام احمدیوں کو اپنے گھر پر بلاتے اور چائے پیش فرمانے کے بعد حکومت کی طرف سے امدادی رقم پر مشتمل مہر بند لفافہ ہر ایک کے حوالے کر دیتے۔