مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 357
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 337 ہوا کہ کوئی ڈاکٹر گھر پر ہی علاج کریں۔چنانچہ ایک جرمن نژاد یہودی میرے علاج پر مقرر ہوا۔اور وہ یہودی ڈاکٹر مسلسل میرے گھر میں آتا رہا۔حتی کہ جب برف باری بڑھ گئی تب بھی وہ میرے گھر آتا رہا۔اس ڈاکٹر کے ہاں 18 سال قبل ایک بچی ہوئی تھی اور اس کے بعد کوئی اولا دنہ ہوئی۔ڈاکٹر نے تو اس بات کا میرے سامنے ذکر نہ کیا۔لیکن میرے دل میں اس ہمدرد ڈاکٹر کے لئے خاص رحم دلی پیدا ہوئی اور میں نے اس کے لئے اولاد کی دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اس کے ہاں بیٹا ہوگا۔چنانچہ میں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ تیرے ہاں اس سال میں ایک بیٹا ہوگا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو 18 سال بعد بیٹا فرمایا۔یہودی طریق کے مطابق ساتویں دن بچے کے ختنے اور نام وغیرہ کی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔اس ڈاکٹر نے اس دن اپنے بہت سے عزیزوں اور دوسرے لوگوں کو جن میں مذہبی علماء بھی تھے بلوایا اور مجھے اس دن خاص طور پر آنے کی دعوت دی۔جب میں اس ڈاکٹر کے گھر گیا تو تمام یہودی مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ مسلمان یہاں کیا لینے آ گیا ہے۔کیونکہ یہودی مسلمانوں سے خاصی منافرت رکھتے ہیں اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ یہ کس تعلق میں یہاں کی آئے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے سب کچھ بتایا کہ ان کی دعا سے ہی میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔اس لئے میں ان کو دعوت دے کر سب سے زیادہ خوشی محسوس کر رہا ہوں۔اس لئے چوہدری صاحب نے بتایا کہ سارے یہودی ایک جیسے نہیں ہوتے ان میں کچھ شرفاء بھی ہوتے ہیں۔اس واقعہ سے بھی چوہدری صاحب کے مستجاب الدعوات ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔الہی مدد ونصرت جب 1945ء میں اسرائیل قائم کیا گیا تو وہاں پر آپ نے یاکسی اور نے خواب دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ آسمان پر پرواز کر رہے ہیں اور کہا بیر کے گاؤں کے گردگھوم رہے ہیں اور تسلی دے رہے ہیں کہ گھبراؤ نہیں۔اس سے احمدیوں نے یہ یقین کر لیا کہ کبابیر محفوظ رہے گا اور کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور احمدی بھی محفوظ رہیں گے۔چوہدری صاحب نے بہت کوشش کی کہ کوئی آدمی وہاں سے ہجرت نہ کرے لیکن بعض احمدی نوجوان گھبرا کر وہاں سے چلے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت فرمائی اور کہا بیر میں جتنے بھی