مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 341 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 341

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ آپ کو کسی نے غلط بتایا ہے۔ہمارا یہاں کوئی مدرسہ نہیں۔ہم نے کہا کیا کوئی کالج بھی آپ کا یہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں کوئی کالج وغیرہ نہیں۔321 اس کے بعد ہم نے ان سے کہا کہ ہم نے سنا ہے۔کہ منشیہ میں (جو عکا کے قریب ایک گاؤں ہے۔اور یہاں بہاء اللہ کا بڑا بیٹا محمد علی رہتا تھا) وہاں کے سب لوگ بہائی ہیں۔اُنہوں نے کہا نہیں وہ عربوں کا گاؤں ہے۔وہاں کوئی بہائی نہیں۔اس کے بعد ہم نے ان سے دریافت کیا کہ ہمیں بہائیت کے متعلق جو مستند کتابیں ہوں وہ بتلائیں۔اس پر وہ ایک کتاب Bahaullah & The New Era بہاء اللہ اور عصر جدید ) اور ایک پمفلٹ The Bahai Faith) لائے (جس پر پبلشر یا مرتب کا نام مذکور نہ تھا )۔میں نے انہیں قیمت دینی چاہی لیکن انہوں نے کہا کہ آپ زائر ہیں اس لئے آپ سے قیمت نہیں لیتے۔ہم نے کہا بہت اچھا آپ کی مرضی۔پھر ہم نے ان سے کہا کہ ہمیں ” عصر جدید عربی میں چاہئے انہوں نے کہا کہ افسوس وہ کتاب ہمارے پاس نہیں۔اس کے بعد وہ ہمیں دکھلانے کے لئے ایک کتاب ( The Bahai World) لائے جو امریکہ میں طبع شدہ تھی۔اور کافی تعلیم تھی۔ہم نے ان سے کہا کہ یہ کتاب ہمیں قیمتاً دیدیں۔جس قدر اس کی قیمت ہو وہ ہم آپ کو ابھی دے دیتے ہیں انہوں ن نے کہا افسوس ہے کہ یہ کتاب شوقی صاحب کی لائبریری سے لایا ہوں۔اور اس کی ایک ہی کاپی ہمارے پاس موجود ہے۔آخر ہم ان سے مندرجہ بالا معلومات لے کر واپس آگئے۔مندرجہ بالا مکالمہ سے یہ بات صاف طور پر عیاں ہے۔کہ فلسطین میں بہاء اللہ کے خاندان کے علاوہ اور کوئی مقامی آدمی بہائیت کا متبع نہیں۔صرف بہاء اللہ کا خاندان ہی بہائی ہے۔الفضل 23 مارچ 1945 ، صفحہ 4) شوقی آفندی کا تعاقب مکرم رشید احمد چغتائی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ : ایک دفعہ ہم زعیم بہائیت شوقی آفندی سے ملنے کے لئے اس کی قیام گاہ پر حیفا میں