مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 340 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 340

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 320 صاحب جنجوعہ مجاہد سیرالیون ( جو ان دنوں سیرالیون کو جاتے ہوئے ہمارے ہاں مقیم تھے ) اور برادرم نذیر احمد صاحب قریشی حوالدار ( نزیل مشرق اوسط) ساکن ٹھیکر یوالہ متصل قادیان اور خاکسار شوقی صاحب سے ملنے کے لئے ان کے مکان پر گئے شوقی صاحب سے ملاقات تو نہ ہوسکی کیونکہ ان کے متعلق ہمیں ان کے گھر سے بتلایا گیا کہ وہ آج کل یہاں نہیں بلکہ لبنان گئے ہوئے ہیں۔اس لئے ان کے بھائی ریاض صاحب سے ملاقات ہوئی۔ریاض صاحب پکے رنگ کے درمیانہ قد کے نوجوان ہیں بظاہر نظر ان کی عمر چوبیں چھپیں سال معلوم ہوتی انگریزی لباس پہنے ہوئے تھے اور داڑھی مونچھیں صفا چٹ تھیں۔ان سے ابتدائی رسمی گفتگو شروع ہوئی۔اتنے میں ان کی طرف سے ہمارے لئے قہوہ ان کے گھر سے آگیا۔ہم نے معذرت کر دی اور کہہ دیا کہ رمضان کا مہینہ ہے اور ہم روزہ دار ہیں۔بعدہ خاکسار نے ان سے عربی میں گفتگو شروع کی۔انہوں نے عربی میں گفتگو کرنے کے متعلق معذرت کا اظہار کیا اور کہا کہ میں اپنا ماحول عربی نہ ہونے کی وجہ سے عربی میں اچھی طرح گفتگو نہیں کر سکتا۔اس لئے انگریزی ہی میں بات کر سکوں گا۔ہم نے کہا بہت اچھا۔آخر گفتگو شروع ہوئی ہم نے ان سے کہا کہ ہمیں آپ کی شریعت کی کتاب ”اقدس کے ایک نسخہ کی ضرورت ہے۔اگر آپ مہربانی فرما ئیں تو ایک نسخہ ہمیں دیدیں۔جس قدر اس کی قیمت ہو ہم آپ کو ادا کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہماری طرف سے اقدس طبع نہیں ہوئی اس لئے ہمارے پاس اس کا کوئی نسخہ نہیں۔بعدہ میں نے دریافت کیا کہ آپ یہ بتلائیں کہ بہاء اللہ کے خاندان کے افراد کے علاوہ حیفا میں خصوصاً اور فلسطین میں عموماً کتنے بہائی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ موجودہ لڑائی سے پہلے تقریباً تمیں چالیس تھے۔میں نے کہا اب موجودہ ایام میں کتنے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بہاء اللہ کے خاندان کے علاوہ اس وقت یہاں کوئی بہائی نہیں۔میں نے دریافت کیا کہ وہ بہائی جولڑائی سے پہلے تھیں چالیس تھے وہ کہاں گئے؟ انہوں نے جواب دیا وہ ایران کے رہنے والے تھے اور یہاں تجارت وغیرہ کرتے تھے۔لڑائی شروع ہونے پر اپنے ملک ایران کو چلے گئے۔پھر ہم نے دریافت کیا۔ہم نے سنا ہے کہ آپ کا فلسطین میں کوئی مدرسہ بھی ہے۔