مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 338 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 338

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 318 سازی کے اور کوئی راہ اپنے بچاؤ کی نظر نہ آئی۔چنانچہ اس نے ایک عیسائی اخبار کے ذریعہ اپنے متبعین کی دلی زبان سے یہ اعلان کروا دیا کہ اس چیلنج کے مخاطب دیگر مذاہب کے لوگ نہیں تھے بلکہ صرف عیسائیت کے فرقوں کے پیشوا ہی مراد تھے۔مخالفت بھی صداقت کی ایک علامت ہوتی ہے۔اس پیٹری آرک کے چیلنج کو ہمارا قبول کر لینا اور اسے بیت المقدس میں مناظرہ کے لئے بلانا ہمارے بعض مخالفوں کے لئے سوہانِ روح بن گیا۔چنانچہ انہوں نے اخبار ” المنار کے ذریعہ جو شام کا ایک نوزائیدہ اخبار ہے ہمارے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کی۔اس نے احمدیت کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔جس کا جواب ”جریدہ المنار والبطر بیرک المارونی“ کے نام سے برادرم السید رشدی آفندی البسطی پریذیڈنٹ جماعت حیفا کی طرف سے شائع ہوا۔اور شام وفلسطین میں شائع کیا گیا۔اور اشتہار کا بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے بہت اچھا اثر ہوا۔اور مخالفوں کی یہ تدبیر کہ ہم کسی طرح اپنے مسلمان بھائیوں سے ہی الجھ کر رہ جائیں کارگر ثابت نہ ہوئی۔فالحمد للہ۔الفضل 8 جولائی 1947 ء صفحہ 4) مولانامحمد شریف صاحب اس چیلنج کی تاثیر کی بابت ایک اور رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں:۔”خاکسار نے اوائل 1947 ء میں مادر نائٹ پڑی آرک آف انطاکیہ کو خصوصاً اور یہاں کے پڑی آرکوں اور بشپوں کو عموماً چیلنج دیا کہ وہ اسلام اور مسیحیت میں مختلف فیہ مسائل پر بیت المقدس میں پندرہ روز میرے ساتھ تقریری اور تحری مناظرہ کریں۔اور یہ چیلنج عراق، مصر، شام و لبنان وغیرہ کے عربی اخبارات میں شائع ہوا۔اور تمام پادریوں اور بشپوں کو ارسال کیا گیا۔مگر وہ سب ایسے خاموش ہوئے کہ گویا ان میں زندگی کی روح نہیں۔وذلك من فضل اللہ۔ہماری ان حقیر کوششوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ ثمر مرتب فرمایا کہ عیسائیت کی تبلیغ کو یہاں سخت کی دھکا لگا اور عیسائیت کی منادی ان کے خداوند کی زمین میں بھی مسیح محمدی کی برکت سے ختم ہوا گئی۔اور اب یہاں غیر احمدی مسلمان علماء عیسائی پادریوں سے یہ مباحثہ کرنے لگے ہیں کہ مسیح صلیب پر نہیں مرے بلکہ اپنی طبعی موت سے واصل بحق ہوئے۔چنانچہ فلسطین کے ایک نہایت مشہور و معروف عالم الشیخ عبداللہ نے ڈنمارک کے ایک پادری مقیم بیت المقدس سے اسی موضوع پر تحریری مناظرہ کیا اور اسے اپنے خرچ پر شائع کیا۔جس میں انہوں نے ہمارے دلائل پیش کر کے عرب پادریوں کو لا جواب کیا۔الفضل 25 دسمبر 1949 ، صفحہ 8)