مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 336 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 336

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 316 ہیں یا عیسائیت۔یہ اعلان شام کے دو تین اخبارات میں شائع ہوا۔مگر کسی شامی یا لبنانی امام و امی عالم نے اس کا جواب نہ دیا۔اس پر جماعت احمدیہ کی طرف سے خاکسار نے ایک اشتہار شائع کیا۔جس میں پڑی آرک کی دعوت کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے اس کے سامنے تین شرائط مناظرہ پیش کئے۔اور بیت المقدس میں مناظرہ کرنے کی دعوت دی۔اس اشتہار کو تمام بلا دعر بیہ میں کثرت سے تقسیم کیا گیا۔حکومتوں کے پریذیڈنٹوں اور وزراء سے لے کر عوام تک یہ اشتہار پہنچایا گیا۔اس اشتہار کے شائع ہونے پر تمام مسلم پبلک نے اسے اپنے لئے باعث فخر سمجھا۔اور اس کا نہایت اعلیٰ خیر مقدم کیا۔بلاد عر بیہ کے تمام مشہور و معروف اخبارات نے اس پر بہت اچھے رنگ میں ریویو لکھے۔چنانچه روزنامه آخر دقيقة“، ”الأخبار“، ”العلم“، ”البلد“، ”المصرى“، ”العرفان“ وغیرہ چھ جرائد نے اس پر نوٹ لکھے اور پٹڑی آرک کو مناظرہ میں نکلنے کی دعوت دی۔عراق کے اخبار ” الشرق اور نصیر الحق نے اور مصر کے اخبار ” الا سلام“ نے اسے لفظ بلفظ شائع کیا اور ہر طرف سے جماعت احمدیہ کی دینی غیرت اور خدمات کے اعترافات شائع گئے۔اور متعدد مبارکباد دی اور دعاؤں پر مشتمل خطوط خاکسار کو موصول ہوئے اور احمدیت کا نام نہایت شاندار طور پر زبان زدخلائق ہو گیا۔فالحمد لله على ذلك۔الفضل 8 جولائی 1947 ء صفحہ 4) یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں رسالہ البشری میں شائع شدہ متعد د عربی اخبارات کی خبروں میں سے دو کے مختصر لیکن مبنی برحق تبصرے یہاں نقل کر دیئے جائیں : شام کے اخبار آخر دقیقہ نے اپنی 18 / ربیع الاول 1366ھ کی اشاعت میں لکھا: "تلقينا من حيفا من الأستاذ محمد شريف المبشر الإسلامي الأحمدى نشرة يشير فيها إلى ما نشرته جريدتى المنار“ و ”آخر دقيقة من تصريحات غبطة البطريرك الماروني وتحديه الأئمة و العلماء لمناقشته في الشؤون الدينية - ويقول الأستاذ محمد شريف أن الجماعة الأحمدية تقبل هذا التحدى ، وهي على استعداد لأن تناقش غبطته في تعاليم