مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 318
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 300 نوع انسان کی ہمدردی اور امداد بھی ہے۔ان کا حصہ خرچ کرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں اور پھر کون کہہ سکتا ہے کہ کل کو اس کا حال کیا ہوگا ؟ 7۔جفاکشی اور محنت ایسے جو ہر ہیں کہ ان کے بغیر انسان کی اندرونی خوبیاں ظاہر نہیں ہوتیں۔اور جو شخص اس دنیا میں آئے اور اپنا خزانہ مدفون کا مدفون چھوڑ کر چلا جائے اس سے زیادہ بدقسمت کون ہوگا ؟ 8۔ہر شخص جو باہر جاتا ہے اس کے ملک اور اس کے مذہب کی عزت اس کے پاس امانت ہوتی ہے۔اگر وہ اچھی طرح معاملہ نہ کرے تو اس کی عزت نہیں بلکہ اس کے ملک اور مذہب کی عزت برباد ہوتی ہے۔لوگ اسے بھول جاتے ہیں لیکن عرصہ دراز تک وہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ ہم نے ہندوستانی دیکھے ہوئے ہیں وہ ایسے خراب ہوتے ہیں۔ہم نے احمدی دیکھے ہوئے ہیں۔وہ ایسے خراب ہوتے ہیں۔9۔مسافر کو جھگڑے سے بہت بچنا چاہئے۔اس سے زیادہ حماقت کیا ہوگی کہ دوسرا شخص تو جھگڑا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہے اور یہ ہوٹلوں میں جھگڑے کے تصفیہ کا انتظار کرتا ہے۔مسافر تو اگر جیتا تب بھی ہارا اور اگر ہارا تب بھی ہارا۔10۔غیر ملکوں کے احمدی ہزاروں بار دل میں خواہش کرتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی قادیان جانے کی توفیق ملے کہ وہاں کے بزرگوں کے تقویٰ اور اچھے نمونہ سے فائدہ اٹھا ئیں۔اور خصوصا اہل بیت کے ساتھ ان کی بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔وہ اپنے روں کو ایمان کے حصول کے لئے چھوڑ نا چاہتے ہیں۔اور ہمارے پاس آنا چاہتے ہیں۔سخت ظلم ہوگا اگر ہم ان کے پاس جا کر ان کے ایمانوں کو ضائع کریں اور ان کی امیدوں کو سراب ثابت کریں۔ہمارا عمل ایسا ہونا چاہئے کہ وہ سمجھیں کہ ہماری امید سے بڑھ کے ہمیں ملا، نہ یہ کہ ہماری امید ضائع ہوگئی۔11۔ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ ہوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کی چغلیاں کرتے ہیں۔مومن کو چغلی سننے سے پر ہیز چاہیئے اور سن کر یقین کرنے سے تو کلی اجتناب واجب ہے۔جو دوسرے کی نسبت عیب بغیر ثبوت کے تسلیم کر لیتا ہے خدا تعالیٰ اس پر ایسے لوگ مسلط کرتا ہے جو اس کی خوبیوں کو بھی عیب بتاتے ہیں۔مگر چاہئے کہ چغلی کرنے والے کو بھی ڈانٹے نہیں بلکہ محبت سے نصیحت کرے کہ اگر آپ کا خیال غلط ہے تو بدظنی کے گناہ سے آپ کو بچنا