مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 317
299 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول رسول کریم فداه جسمی و روحی فرماتے ہیں: تیرے ذریعہ سے ایک آدمی کو ہدایت کا ملنا اس سے بڑھ کر ہے کہ ایک وادی کے برابر تجھ کو مال مل جائے۔5۔بنیادی نیکیوں میں سے سچائی ہے۔جس کو سچ کومل گیا اسے سب کچھ مل گیا۔جسے بچ نہ ملا اس کے ہاتھوں سے سب نیکیاں کھوئی جاتی ہیں۔انسان کی عزت اس کے واقفوں میں اس کی کے بیچ کی عادت کے برابر ہوتی ہے۔ورنہ جو لوگ سامنے تعریف کرتے ہیں پس بشت گالیاں دیتے ہیں اور جس وقت وہ بات کر رہا ہوتا ہے لوگوں کے منہ اس کی تصدیق کرتے ہیں لیکن دل تکذیب کر رہے ہوتے ہیں۔اور اس سے زیادہ برا حال کس کا ہوگا کہ اس کا دشمن تو اس کی بات کورڈ کرتا ہی ہے مگر اس کا دوست بھی اس کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اس سے زیادہ قابل رحم حالت کس کی ہوگی۔اس کے برخلاف بچے آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے دوست اس کی بات مانتے ہیں اور اس کے دشمن خواہ منہ سے تکذیب کریں لیکن ان کے دل تصدیق کر رہے ہوتے ہیں۔6۔انسانی شرافت کا معیار اس کے استغناء کا معیار ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا تَمُدَّدَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ (الحجر: 89) کبھی دوسرے کی دولت پر نگہ نہ رکھے اور کبھی کسی کا حسد نہ کرے۔جو ایک دفعہ اپنے درجہ سے اوپر نگہ اٹھا تا ہے اس کا قدم کہیں نہیں ٹکتا۔اگلے جہان میں تو اسے جہنم ملے گی ہی وہ اس جہان میں بھی جہنم میں رہتا ہے۔یعنی حسد کی آگ میں جلتا ہے یا سوال کی غلاظت میں لوٹتا ہے۔کیسا ذلیل وجود ہے کہ وہ اکیلا ہوتا ہے تو حسد اس کے دل کو جلاتا ہے اور لوگوں میں جاتا ہے تو سوال اس کا منہ کالا کرتا ہے۔انسان اپنے نچلوں کو دیکھے کہ وہ کس طرح اس سے تھوڑا رکھ کر قناعت سے گزارہ کر رہے ہیں اور اس پر شکر کرے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اور اس کی خواہش نہ کرے جو اسے نہیں ملا۔اسکے شکر کرنے سے اس کا مال ضائع تو نہیں ہوتا۔ہاں اسے دل کا سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔اور طمع کرنے سے دوسرے کا مال اسے نہیں مل جاتا صرف اس کا دل جلتا اور عذاب پاتا ہے۔جس طرح بچہ بڑوں کی طرح چلے تو گرتا اور زخمی ہوتا ہے۔اسی طرح جو شخص اپنے سے زیادہ سامان رکھنے والوں کی نقل کرتا ہے وہ گرتا اور زخمی ہوتا ہے۔اور چند دن کے جھوٹے دوستوں کی واہ واہ کے بعد ساری عمر کی ملامت اس کے حصہ میں آتی ہے۔اور انسان کو ہمیشہ اپنے ذرائع سے کم خرچ کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے کیونکہ اس کے ذمہ دوسرے بنی