مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 304
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول قادر خدا کی قدرتوں کے نظارے 286 الحاج عبد الکریم صاحب احمدی (اے۔کے۔احمدی) برٹش آرمی میں ملازم تھے اور اسی ملازمت کے سلسلہ میں ان کی تقرری مصر میں ہوئی۔جہاں انہوں نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا اور کئی مصری احمدیت میں داخل ہو گئے جن میں ایک مشہور مصری احمدی السید علی حسن صاحب بھی ہیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب عیسائی مشنری برٹش گورنمنٹ کے بعض عناصر کی سر پرستی اور حمایت حاصل کر کے اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے اور کئی سادہ لوح مسلمانوں کو عیسائیت کی زد میں لانے میں کامیاب ہورہے تھے۔پہلے مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابو العطاء کی مساعی کے ضمن میں مصر میں کئی امریکن مشن کے پادریوں کے ساتھ مناظروں کا تذکرہ ہوا ہے جو لمبے عرصہ سے مصر میں مقیم ہونے کی وجہ سے روانی سے عربی زبان بولتے تھے اور عیسائیت کی تبلیغ کا کام زور شور سے چلا رہے تھے۔ایسے ہی امریکن مشن کے ایک 75 سالہ بوڑھے پادری کی کوششوں کی وجہ سے پندرہ ہیں قبطی مسلمان عیسائیت قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور بپتسمہ لینے ہی والے تھے کہ الحاج عبد الکریم صاحب احمدی کی اس پادری کے ساتھ مختلف امور پر گفتگو ہو گئی۔اس گفتگو میں ان کی کامیابی کی وجہ سے یہ پندرہ ہیں قبطی مصری مسلمان عیسائی ہونے سے بچ گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس غلام کی کوشش نے ان مسلمانوں کو واپس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ڈال دیا۔اپنی اس نا کامی کا بدلہ لینے کے لئے اس عیسائی پادری نے اے کے احمدی صاحب کا پیچھا کیا اور جس سیکشن میں یہ بطور ہیڈ کلرک کام کرتے تھے اس کے افسر انچارج کپتان رائٹ سے مل کر اسے اکسایا اور اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ احمدی صاحب کو سزا دلوا کر ہندوستان بھیجوا دے کیونکہ یہاں مصر میں وہ ان کی تبلیغ میں روک بن رہا ہے۔اس کپتان نے پادری کی بات پر یوں عمل کیا کہ آپ فرماتے ہیں: کپتان رائٹ نے مجھے بلانے کے لئے گھنٹی بجائی ، میرا کمرہ ان کے کمرے سے کچھ فاصلے پر تھا۔میں ابھی اپنے کاغذات تیار کر کے چپڑاسی کو دے ہی رہا تھا کہ کپتان نے گھنٹی بجا کر ایک دوسرے ہیڈ کلرک کو بلا لیا جس کا کمرہ اس کے کمرہ کے بالکل قریب تھا۔چنانچہ میں راستے سے ہی واپس چلا گیا۔اس پر کپتان موصوف نے میرے خلاف شکایت کر دی اور مجھے وارننگ دے دی گئی۔اس طرح اوپر نیچے تین دفعہ شکایت کر کے کپتان نے مجھے تنبیہ دلوائی