مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 305
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول۔۔۔۔۔۔287 اور پھر ایک دن سفارش کی کہ میرا کورٹ مارشل کیا جائے۔جس پر مجھے نظر بند کر دیا گیا۔جو چارج شیٹ مجھے دی گئی اس میں یہ درج تھا کہ میں نے کپتان رائٹ کی چار دفعہ حکم عدولی کی ہے اور یہ کہ میں فلاں تاریخ کو حاضر ہو کر اپنی صفائی پیش کروں۔جس روز فیصلہ ہونا تھا اس سے ایک دن قبل کپتان رائٹ نے دفتر میں اعلان کر دیا کہ کل مسٹر احمدی کو چھ ماہ کی سزا ہو جائے گی۔بلکہ ایک مصری احمدی دوست السید علی حسن جب میں ( Mess) میں کھانا کھانے گئے تو بعض مخالف ہیڈ کلرکوں نے انہیں یہاں تک طعنہ دیا کہ کل تمہارے مولوی کو آئی ایم ایس ایم India Meritorious service Medal تمغہ ملے گا۔( یہ تمغہ حسن کارکردگی کی بناء پر ملتا تھا)۔السید علی حسن اسی وقت اٹھ کر میرے پاس پہنچے اور بتانے لگے کہ مخالفین یوں طنز میں کر رہے ہیں۔میں نے ان سے اسی وقت کہہ دیا کہ آپ میس میں جا کر اعلان کر دیں کہ میرا خدا قادر ہے کہ مجھے ان مخالف حالات کے باوجود آئی ایم ایس ایم کا تمغہ دلا دے۔“ جب السید علی حسن نے وہاں جا کر یہ اعلان کیا تو مخالفین قہقہہ مار کر ہنسے اور کہنے لگے کہ یہ تو جیل میں جارہا ہے اور خوا میں تمغے کی دیکھ رہا ہے۔احمدی صاحب فرماتے ہیں کہ: وہ ساری رات میں نے جاگ کر دعاؤں اور نوافل میں گزاری۔اگلے دن فوجی عدالت میں میری پیشی تھی۔کپتان رائٹ بھی مدعی کی حیثیت سے کمرہ عدالت میں موجود تھا۔جب عدالت کے جج نے مجھے بلا کر اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے کہا تو میں نے وہ سارا قصہ جو اصل حقیقت تھا بیان کر دیا۔جج نے گواہ پیش کرنے کے لئے کہا تو میں نے عرض کیا کہ افسر انچارج کے خلاف کون گواہی دے گا۔اس پر حج کہنے لگا: تو پھر میں تجھے مجرم قرار دیتا ہوں۔ابھی وہ اس سے آگے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ جنرل شوٹ ( جو ہماری کمپنی کے کمانڈر تھے ) کا فون آگیا۔اس نے حج سے دریافت کیا کیا کوئی مقدمہ مسٹر احمدی کے خلاف چل رہا ہے؟ حج نے جواب دیا: ہاں حضور، اور میں ابھی اس کا فیصلہ سنانے والا ہوں۔اس پر جنرل شوٹ نے کہا : تم فیصلہ مت سناؤ بلکہ مقدمہ کے جملہ کاغذات لے کر میرے پاس آ جاؤ۔یہ سن کر جج نے اسی وقت کا غذات لئے اور جنرل شوٹ کے پاس چلا گیا۔“ ادھر خدا نے تو جج کو فیصلہ سنانے سے روک دیا مگر کپتان رائٹ اپنی ناپاک سازش کی کامیابی پر ابھی تک ایسا مطمئن تھا کہ احمدی صاحب کو کہنے لگا : مسٹر احمدی ہمارا اچھا وقت گزرا