مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 303 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 303

285 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ہیں۔گویا عرب صاحب نے ایک عظیم الشان جلسہ کا اہتمام کر رکھا ہے۔پہلے تو میں گھبرا سا گیا مگر پھر دل قومی کر کے آگے بڑھا۔مستورات مکان کی چھت پر اور میں عرب صاحب کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔دریوں پر کوئی دوصد افراد براجمان تھے جن میں سے اکثر اسی محلہ کے اور عرب صاحب کے عقیدتمند تھے۔“ عرب صاحب نے جو اُردو روانی سے بول سکتے تھے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کیوں احمدی ہوئے ہیں؟ آپ نے کہا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آٹھویں پارے میں بنی آدم کو مطلع کیا گیا ہے کہ تمہارے اندر ضرور تم میں سے رسول آئیں گے جو میری آیات تمہارے پاس بیان کریں گے۔جو شخص تقویٰ سے کام لیتا ہوا اپنی اصلاح کرے گا اسے کوئی خوف اور غم نہ ہو گا۔اس حکم کی تعمیل میں میں نے اس زمانہ کے مامور کی بیعت کی ہے۔عرب صاحب نے جواب میں کہا: ابتداء میں بنی آدم کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا تھا یہاں اسے بیان کیا گیا ہے۔آپ نے عرض کیا کہ یہاں کئی بار لفظ ”قل دہرایا گیا ہے جس کا مطلب صاف ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ کے اور بعد کے بنی آدم سے یہ بات کہہ دیں۔عرب صاحب نے کہا کہ اس مقام پر قل“ کا لفظ نہیں ہے۔اس پر آپ نے مجمع کو مخاطب کر کے کہا اگر یہاں کوئی حافظ ہوں تو کھڑے ہو کر اس مقام کو تلاوت کریں۔فی الفور دو تین حافظ کھڑے ہو گئے۔ان میں سے ایک کو جو حافظ ”جھا“ کے نام سے معروف تھے موقعہ دیا گیا۔ان آیات میں پانچ بار قل“ کا لفظ آیا ہے انہوں نے آیات پڑھنی شروع کیں۔سوجتنی بار قل کا لفظ آیا آپ گنواتے چلے گئے۔ایک۔دو تین چار پانچ۔تو عرب پر گویا گھڑوں پانی پڑ گیا۔اور ان کے معتقدین نے بہت شرمندگی محسوس کی۔اس کے بعد اس مجمع کا کیا حشر ہوا یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔آپ فرماتے ہیں: ایک کونے سے کسی شریر نے عرب صاحب پر آوازے کسے اور کہا کہ میرزائی لڑکے نے ہم سب کو شرمندہ کر دیا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔اس پر عرب صاحب تو اپنے گھر کے اندر چلے گئے اور ان کے مرید جوش میں آگئے اور اس شریر اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ تو تکار اور دنگہ فساد ہونے گا۔یہ دیکھ کر میں اپنے ساتھ کی مستورات سمیت وہاں سے چلا آیا۔بفضلہ تعالیٰ مجھے کامیابی بھی حاصل ہوئی اور میں کسی نقصان سے بھی محفوظ رہا۔“ مشخص از تابعین اصحاب احمد جلد دہم صفحہ 38-39)